رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر کی تاریخی خانقاہ میں آتشزدگی

  • یوسف جمیل

آگ کے باعث خانقاہِ معلیٰ کے مینار کو بھی نقصان پہنچا ہے

خانقاہِ معلیٰ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ خانقاہ میں موجود تبرکات اور تاریخی نوادرات محفوظ ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک قدیم خانقاہ کو منگل اور بُدھ کی درمیانی شب لگنے والی آگ سے جزوی نقصان پہنچا ہے۔

بُدھ کی صبح ہی سے مسلم اکثریتی وادی کے مختلف علاقوں سے مرد وزن جائے حادثہ کا مشاہدہ کرنے دارالحکومت سرینگر پہنچ رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار یوسف جمیل کے مطابق انہوں نے خانقاہ کو پہنچنے والے نقصان پر شدتِ غم سے نڈھال کئی لوگوں کو زار و قطار روتے ہوئے دیکھا۔

خانقاہِ معلیٰ نامی عبادت گاہ چودہویں صدی کے ابتدائی دور میں وسطی ایشیا اور فارس سے کشمیر آنے والے مسلم صوفیوں کی طرف سے وادی میں اسلام متعارف کرائے جانے کے بعد تعمیر کی گئی تھی اور اس کا شمار ہمالیائی خطے کی اولین مساجد میں ہوتا ہے۔

سرینگر کے تاریخی پرانے شہر کے وسط میں دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر واقع خانقاہِ معلیٰ کو سلسلہِ کبرویہ سے تعلق رکھنے والے مبلغ میر سید علی ہمدانی کا مسکن اور کشمیر میں اسلام کی تبلیغ کا ابتدائی مرکز بھی خیال کیا جاتا ہے۔

میر سید علی کا تعلق ایران کے ہمدان شہر سے تھا اور وہ چودہویں صدی کے اواخر میں کشمیر آئے تھے۔ انہوں نے کشمیر میں اسلام کے پیغام کو عام کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی بہت سے فلاحی کام بھی کیے تھے۔

مؤرخین کے مطابق میر سید علی کی تبلیغ سے 37 ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ کشمیریوں میں امیرِ کبیر کے نام سے مشہور ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ خانقاہ میں جو مقامی اور وسطی ایشیا کے فنِ تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی جس سے خانقاہ کی چھت اور منارہ تباہ ہوگئے۔

تاہم بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ آتش زدگی کا یہ واقعہ آسمانی بجلی گرنے سے پیش آیا اور وہ اسے خدا کی طرف سے غلط کاموں سے باز رہنے کا انتباہ سمجھتے ہیں۔

خانقاہِ معلیٰ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ خانقاہ میں موجود تبرکات اور تاریخی نوادرات محفوظ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG