رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: جیشِ محمد کے سربراہ کا بھتیجا جھڑپ میں ہلاک

  • یوسف جمیل

(فائل فوٹو)

مسعود اظہر کو بھارت جیشِ محمد کی پُر تشدد سرگرمیوں اور دہشت گردی کے واقعات میں، جن میں دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ بھی شامل ہے، مبینہ طور پرملوث ہونےکےپیشِ نظر مطلوب ترین دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

بھارتی عہدے داروں نے منگل کو دعویٰ کیا کہ حفاظتی دستوں کے ساتھ ایک مقابلے میں جیشِ محمد کے بانی اور موجودہ سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ رشید مارا گیا ہے۔ یہ مقابلہ پیر کی رات جنوبی ضلع پلوامہ کے اگلہر کنڈی علاقے میں ہوا تھا ۔

جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوا جبکہ علاقے میں ایک پُر تشدد مظاہرے کے دوران حفاظتی دستوں کی مبینہ فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔

سیکیورٹی فورسز نے ایک نجی مکان میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیار اور مارٹر بموں کا بھی استعمال کیا۔ جس سے اس گھر سے ملحق مزید مکان بھی جل کر خاکستر ہو گئے۔ اس جھڑپ میں ایک کے صحن میں تازہ سیبوں کی بارہ سو پیٹیاں بھی مکمل طور پر جل گئیں، جبکہ پانچ اور مکانوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

مسعود اظہر کو بھارت جیشِ محمد کی پُر تشدد سرگرمیوں اور دہشت گردی کے واقعات میں، جن میں دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ بھی شامل ہے، مبینہ طور پرملوث ہونےکےپیشِ نظر مطلوب ترین دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

سرینگر میں عجلت میں بلائی گئی ایک نیوز کانفرنس میں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان اور فوج اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے سینیر افسروں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں جیشِ محمد کا ڈویژنل کمانڈر محمود بھائی اور ایک مقامی کمانڈر وسیم گِنائی بھی شامل ہیں۔

عہدے داروں نے کہا کہ چونکہ جیشِ محمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طلحہٰ رشید مسعود اظہر کا بھتیجا ہے اس لئے متعلقہ چینلز کے ذریعے پاکستان سے اس کی لاش کو قبول کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

عہدے داروں نے نیوز کانفرنس میں عسکریت پسندوں کے مبینہ استعمال میں رہنے والی امریکی ایم 4 کاربائین بھی دکھائی اور کہا کہ بھارتی کشمیر میں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش کے خلاف مہم میں پہلی مرتبہ ایسا ہتھیار ضبط کیا گیا ہے۔

انسپکٹر جنرل خان نے کہا کہ امریکی اور نیٹو افواج کے زیر استعمال ایم 4 کاربائین کیسے کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگی اس کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہے-تاہم عہدے داروں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے پاس مزید پانچ تا دس ایم 4 کاربائین بندوقیں ہو سکتی ہیں۔

یہ جھڑپ کشمیر پر نئی دہلی کے نئے مذاكرات کار دنیشور شرما کی سرینگر میں آمد کے چند گھنٹوں کے بعد ہوئی ۔ شرما نے جو بھارت کی خفیہ ایجنسی آئی بی کے سابق سربراہ ہیں، منگل کو لگاتار دوسرے روز بھی سری نگر میں مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں سے ملاقاتیں جاری رکھیں جن میں چند سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں ۔ تاہم استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں اور ہم خیال سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی گروپس اور وکلاء کی ایسوسی ایشن نے یہ کہتے ہوئے اُن سے ملنے سے انکار کردیا کہ حکومت، کشمیر کے بنیادی مسئلے کے حل کی بجائے اس کے مضمرات اور منفی اثرات پر توجہ دے رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG