رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل میں تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک


گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چاقو وار کر کے اور دیگر حملوں میں کم از کم سات اسرائیلی ہلاک اور 25 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں کارروائی سے 25 فلسطینی بھی ہلاک ہو ئے ہیں۔

اسرائیل کی پولیس کا کہنا ہے کہ یروشلم میں چاقو سے وار اور فائرنگ کے دو الگ حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ ایک حملے میں دو افراد نے یروشلم میں بس پر مسافروں پر فائرنگ کی اور ان پر چاقو سے وار کیا، جس سے دو افراد ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ دونوں حملہ آوروں کو ’’موقع پر ہی ہلاک‘‘ کر دیا گیا۔

یروشلم کے ایک دوسرے حصے میں ایک شخص نے اپنی کار کو بس سٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھا دیا اور بعد میں کار میں سے اتر کر ان پر چاقو سے وار کرنا شروع کر دیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس حملہ آور کو بھی گولی مار دی گئی۔

تیسرا حملہ تل ابیب کے شمال میں واقعہ رعنانا میں ایک بس سٹاپ پر ہوا جہاں حملہ آور نے ایک شہری پر چاقو سے حملہ کیا۔ قریب کھڑے لوگوں نے اسے قابو کیا اور بعد میں پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چاقو سے اور دیگر حملوں میں کم از کم سات اسرائیلی ہلاک اور 25 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی پولیس کی کارروائی اور فوج کی پتھر اور آتشی بم پھینکنے والے فلسطینی مظاہریں پر فائرنگ سے 25 فلسطینی ہلاک ہو ئے ہیں۔

پیر کو وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ’’چاقو کی دہشتگردی‘‘ پر قابو پا لے گا۔

پیر کو پارلیمان سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس، فلسطینی اتھارٹی اور تحریک اسلامی نامی ایک تنظیم پر تشدد پر اکسانے اور اس ’’جھوٹ‘‘ کو پھیلانے کا الزام عائد کیا کہ اسرائیل مشرقی یروشلم میں واقع مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے مقدس مقام پر مکمل قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کے عرب شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد سے دور رہیں اور پر امن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کریں۔

مگر وزیراعظم نے سب سے سخت الفاظ اسرائیلی پارلیمان کی عرب رکن حنين زعبی کے لیے استعمال کیے جنہوں نے مکمل فلسطینی بغاوت کی اپیل کی تھی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حنین زعبی کو اسرائیلیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد کی حمایت کرنے پر مجرمانہ تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی پارلیمان کی رکن بننے کے قابل نہیں۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ’’جارحیت کے اقدامات‘‘ کو تشدد کی اس لہر کا ذمہ دار قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ریاض منصور نے پیر کو سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ امن اور فلسطینی شہریوں کے خلاف ’’جارحیت‘‘ فوری ختم کرنے کے لیے ’’حقیقی اقدام‘‘ کرے۔

فلسطین ان علاقوں پر یہودی آباکاری سے مایوسی کا شکار ہے جنہیں وہ مستقبل میں اپنی ریاست کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگ صدر عباس کو کمزور سمجھتے ہیں اور ان کی طرف سے امن کی اپیلوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ آبادیاں اس کی سلامتی کا اہم حصہ ہیں۔ اس نے فلسطینیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امن کے لیے مذاکرات پر تیار نہیں اور اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔

XS
SM
MD
LG