رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود میں اعشاریہ 75 فی صد کمی


(فائل فوٹو)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹ کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب ملک میں آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 12.50 فی صد رہے گی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے عالمی طلب میں سست روی اور دنیا کی مالی مارکیٹوں میں تغیر پذیری پیدا ہوئی ہے جب کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔

افراط زر میں نمایاں کمی کی بنا پر پاکستان میں مہنگائی کا منظر نامہ بہتر ہوا ہے جس کے باعث شرح سود میں کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ترقی اور مہنگائی کی شرح میں کمی کی پیش گوئی

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2020 میں مہنگائی کی شرح اسٹیٹ بینک کی 11 تا 12 فی صد کی پیش گوئی کے اندر ہی رہے گی اور بعد ازاں وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فی صد کی حدود میں آ جائے گی۔

کمیٹی کے مطابق ملک میں کئی صنعتوں بشمول برآمدی صنعتوں میں مضبوطی ظاہر ہوئی ہے۔ لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتری کے باوجود شعبہ زراعت کی نمو اہداف سے کم رہنے کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2020 میں جی ڈی پی نمو 3.0 فی صد کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے۔ البتہ اگلے سال اس میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے لیے عالمی تجارت اور مالی مارکیٹوں پر کرونا وائرس کا کم اثرانداز ہونا شرط ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مرکزی بینک نے یہ پیش گوئی تھی کہ ملک میں ترقی کی شرح رواں سال ساڑھے تین فی صد رہے گی جو اب کم کر کے تین فی صد تک کر دی گئی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی

مانیٹری پالیسی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری مالی سال 2020 کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ 72 فی صد گھٹ کر 2.65 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس کا سبب درآمدات میں واضح کمی اور برآمدات اور ترسیلات زر میں معتدل نمو ہے۔

کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ دشوار بیرونی ماحول کے باوجود پاکستان کی برآمدات نے اپنے بیشتر تجارتی حریفوں کے مقابلے میں حالیہ مہینوں کے دوران بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

نئی سرمایہ کاری کے لیے سات فی صد کی شرح پر قرض

اسٹیٹ بینک نے مینو فیکچرنگ کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئے صنعتی یونٹ کے قیام پر 10 سال کے لیے صارفین کو زیادہ سے زیادہ سات فی صد کی شرح پر قرض فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس اسکیم کا مجموعی حجم 100 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

حکام کے مطابق مرکزی بینک کی دیگر ری فنانس اسکیموں کی طرح اس اسکیم کا کریڈٹ رسک بھی بینک اٹھائیں گے اور ان منصوبوں کا انتخاب بھی بینک کریں گے جنہیں وہ فنانس کرنا چاہتے ہیں۔

اس اسکیم سے ایسے نئے منصوبوں کے قیام کے لیے، جو کرونا وائرس کی وبا سے پہلے سرمایہ کار تشکیل دے رہے تھے، کسی ممکنہ تاخیر سے بچنے میں مدد ملے گی۔

اسپتالوں کو تین فی صد کی شرح پر قرض فراہم کرنے کا اعلان

اسٹیٹ بینک نے اسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دینے کی خاطر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ری فنانسنگ کی سہولت اور اس کے شریعت سے ہم آہنگ ورژن کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت کرونا وائرس کی تشخیص، اسے محدود کرنے اور علاج کے آلات کی خریداری پر کو پانچ سال کے لیے زیادہ سے زیادہ تین فی صد کی شرح سود پر قرض دیا جائے گا۔

تمام اسپتال اور وفاقی و صوبائی ہیلتھ ایجنسیوں سے رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز جو کرونا وائرس کے کنٹرول اور خاتمے میں مصروف ہیں، وہ یہ سہولت حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

اس اسکیم کا مجموعی حجم 5 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں فی اسپتال یا میڈیکل سینٹر فنانسنگ کی حد زیادہ سے زیادہ 20 کروڑ روپے ہے۔

مرکزی بینک کے حکام کے مطابق یہ اسکیم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور انسان پر اس کے اثرات کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG