رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کو مجرم قرار دے دیا گیا: ایرانی ٹی وی


واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اتوار کو کہا کہ اخبار ایران کی طرف سے فیصلے کے ابتدائی اعلان کے بارے میں آگاہ ہے جو ان کے بقول ’’مبہم اور الجھانے والی‘‘ ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے اتوار کو خبر دی کہ امریکی روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے رپورٹر جیسن رضایان کو جاسوسی سمیت مختلف الزامات میں مجرم قرار دے دیا گیا۔

خبر میں عدلیہ کے ترجمان کا حوالہ دیا گیا مگر اس کے علاوہ فیصلے کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ رضایان اور ان کی وکیل 20 دن تک فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

رضایان کی وکیل نے انہیں مجرم قرار دینے کے فیصلے کی تصدیق نہیں کی نہ ہی اس خبر پر تبصرہ کیا ہے۔

رضایان 2012 سے ایران میں واشنگٹن پوسٹ کے لیئ کام کر رہے تھے۔ جولائی 2014 میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور کئی ماہ تک بغیر فرد جرم عائد کے قید رکھا گیا۔

ایرانی حکام نے ان کی اہلیہ یگانہ صالحی اور دیگر دو افراد کو بھی گرفتار کیا تھا۔ صالحی کو بعد میں چھوڑ دیا گیا مگر رضایان اب بھی حراست میں ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اتوار کو کہا کہ اخبار ایران کی طرف سے فیصلے کے ابتدائی اعلان کے بارے میں آگاہ ہے جو ان کے بقول ’’مبہم اور الجھانے والی‘‘ ہیں۔

’’یہ واضح نہیں کہ کیا اس فیصلے میں سزا بھی شامل ہے یا نہیں یا اس کے مندرجات سے رضایان یا ان کی وکیل کو آگاہ کیا گیا ہے۔ جیسن ایک متاثرہ شخص ہے۔ اسے بغیر وجہ کے گرفتار کیا گیا، کئی ماہ تک بغیر وکیل تک رسائی کے قید تنہائی میں رکھا گیا، جسمانی بدسلوکی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘

ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات 1980 سے منقطع ہیں۔

XS
SM
MD
LG