رسائی کے لنکس

logo-print

کاش مجھ سے یہ غلطی نہ ہوتی


آسٹریلیا کے سابق کرکٹ کپتان سٹیو سمتھ

آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سٹیو سمتھ اور اوپننگ بیٹسمین کیمرون بینکرافٹ نے بال ٹیمپرنگ کا جرم قبول کرتے ہوئے ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے پر لگائی گئی پابندی قبول کرنے اور اس کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سال کی اس پابندی کے بعد بھی سٹیو سمتھ کسی بھی ٹیم کی قیادت نہیں کر سکیں گے۔

سمتھ نے آج بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ اُن کی شدت سے یہ خواہش ہے کہ بال ٹیمپرنگ کا یہ واقعہ کسی طرح ختم ہو جائے اور وہ ایک بار پھر اپنے ملک کی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر سکیں اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

تاہم اُنہوں نے مزید کہا، ’’ایک کپتان کی حیثیت سے میں اس واقعہ کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں۔ لہذا میں پابندیوں کو چیلنج نہیں کروں گا۔ یہ پابندیاں کرکٹ آسٹریلیا نے اس لئے لگائی ہیں تاکہ اس بارے میں ایک سخت پیغام دیا جائے اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔‘‘

اس پابندی کا مطلب یہ ہے کہ سمتھ اب سے بارہ ماہ بعد یعنی اپریل 2019 میں ٹاپ کلاس کرکٹ میں واپس آ سکیں گے جب انگلستان میں عالمی کرکٹ کپ کے انعقاد میں صرف دو ماہ باقی رہ جائیں گے۔

بال ٹیمرنگ کے مرکزی کردار آسٹریلین بیٹسمین کیمرون بینکرافٹ
بال ٹیمرنگ کے مرکزی کردار آسٹریلین بیٹسمین کیمرون بینکرافٹ

سمتھ کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد نوجوان کھلاڑی بینکرافٹ نے بھی ایک ٹویٹ داغ دی جس میں اُنہوں نے کہا کہ وہ بھی نو ماہ کی پابندی کو قبول کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلوی کرکٹ شائقین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

بال ٹیمرنگ کے واقعے میں ملوث تیسرے کھلاڑی سابق نائب کپتان ڈیوڈ وارنر نے ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے کہ آیا وہ بھی سزا کو من و عن قبول کرتے ہیں یا پھر کیس کی سماعت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وارنر پر بھی سمتھ کی طرح 12 ماہ کی پابندی عائد کی گئی ہے اور اُنہیں تاحیات کسی بھی درجے کی کرکٹ کی قیادت کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

سمتھ اور بینکرافٹ کی طرف سے سزا قبول کئے جانے سے قبل آسٹرلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بال ٹیمپرنگ کیلئے یہ سزائیں زیادہ سخت ہیں اور انہیں کم کرنا چاہئیے۔

سمتھ کے جانشین ٹم پین نے کہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اس وقعے کے بعد بہت غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹم پین نے کہا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو اپنا رویہ اور اپنا کردار بدلنا ہو گا اور شائقین کرکٹ اُن کے بارے میں جو رائے قائم کر رہے ہیں، اُنہیں توجہ سے سننا ہو گا۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے بارے میں بہت سے مبصرین کی رائے رہی ہے کہ نہ صرف کھیل کے دوران اُن کا رویہ ضرورت سے زیادہ جارحانہ ہوتا ہے بلکہ وہ بڑی حد تک خود پسندی کا شکار نظر آتے ہیں۔

آسٹریلیا کے سابق نائب کپتان ڈیوڈ وارنر
آسٹریلیا کے سابق نائب کپتان ڈیوڈ وارنر

بال ٹیمرنگ کے اس واقعے کی گونج بھارت کے اندر کرکٹ حلقوں میں بھی زور دار طریقے سے سنائی دی ہے کیونکہ انڈین پریمئر لیگ یعنی آئی پی ایل کے آغاز میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور سمتھ اور وارنر دونوں آئی پی ایل کی دو فرینچائز ٹیموں کی کپتانی کر رہے تھے۔ آئی پی ایل سے ان دونوں کھلاڑیوں کے معاہدے سب سے مہنگے تھے اور یہ لیگ کھیلنے کیلئے دونوں کو 19, 19 لاکھ ڈالر کی رقم ملنی تھی جس سے یہ دونوں کھلاڑی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سمتھ کو راجستھان رائلز کی اور وارنر کو حیدر آباد سن رائزرز کی کپتانی کرنا تھی۔ اب ان دونوں کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کیلئے بین کر دیا جائے گا۔ ان کے بجائے بھارتی کھلاڑی اجنکیا راہانے کو راجستھان رائلز کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ توقع ہے کہ شیکھر دھون حیدرآباد سن رائزرز کی قیادت سنبھالیں گے۔

کرکٹ جیسے کھیل میں غلط فیصلوں کا مطلب خطیر مالی نقصان ہوتا ہے۔ کرکٹ کی معروف ویب سائیٹ ESPNcricinfo کے مطابق سمتھ 2017 کے سب سے زیادہ پیسے کمانے والے کرکٹر تھے۔ تاہم اب بال ٹیمپرنگ کے دھبے کے بعد وہ نہ صرف کرکٹ کھیل کر پیسہ کمانے سے محروم ہو گئے ہیں بلکہ اُن سے وابستہ سپانسرشپ کے تمام معاہدے بھی منسوخ ہو جائیں گے۔ یوں اُنہیں لاکھوں کروڑوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

یوں اب دیکھنا یہ ہے کہ سمتھ، وارنر اور بینکرافٹ اپنا کھویا ہوا وقار اور شائقین کا اعتماد کتنے عرصے میں کر پاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG