رسائی کے لنکس

logo-print

‘مجھے بتایا گیا کہ میرا نام کسی اسٹاپ لسٹ پر ہے’


سٹیون بٹلر۔ فائل فوٹو

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے سٹیون بٹلر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ویزا ہونے کے باوجود لاہور ایئر پورٹ کے عملے نے انہیں لاہور اترنے کے بیس سے پچیس منٹ کے اندر اسی جہاز سے واپس واشنگٹن روانہ کر دیا۔

سٹیون بٹلر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے لاہور میں 19 اور 20 اکتوبر کو ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے 17 اکتوبر کی شب لاہور پہنچے تھے۔

واشنگٹن واپسی پر وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا “میرے ویزے پر ایئرپورٹ عملے کے ایک افسر نے انٹری کی مہر جیسے ہی لگائی تو فوراً ہی اس نے اپنے بڑے افسر کو بلایا جس کے بعد مجھے ایک دفتر لے جایا گیا۔ وہاں موجود اہلکار نے چند فون کالز ملانے کے بعد مجھے کہا کہ میرا نام کسی اسٹاپ لسٹ پر ہے اس لیے مجھے پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "میں نے پاکستانی اہلکار سے پوچھا کہ میرے پاس ویزا ہے تو آخر مسئلہ کیا ہے۔ مگر وہ زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا یہ لسٹ وزارتِ داخلہ بناتی ہے۔ یہ حکم وہاں سے آیا ہے اس لیے اسے اس فیصلے کی وجہ معلوم نہیں۔"

سی پی جے کے ایشیا کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر سے خصوصی انٹرویو
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:09 0:00

وائس آف امریکہ نے اس معاملے پر پاکستانی وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کا موقف جاننے کے لیے بھی رابطہ کیا ہے۔ تاہم ان کی طرف سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

البتہ ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی 'اسٹاپ لسٹ' میں اگرکسی شخص کا نام ہو تو حکام اسے بیرونِ ملک یا اندرونِ ملک سفر سے روک سکتے ہیں۔

سٹیون بٹلر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا کوآرڈینیٹر ہیں۔ وہ 2007 سے لے کر اب تک متعدد بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

کانفرنس میں جانے سے روکنے کی کوشش سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ "میں یہ تو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں حکومت کا اندرونی نظام کیسے چلتا ہے، مگر یہ درست ہے کہ پاکستان کے بارے میں گزشتہ برسوں میں مَیں نے تنقید پر مبنی تحریریں لکھی ہیں۔ مگر ہم نے حکومت سے گفتگو کرنے کی بھی کوشش کی۔ ہم متوازن رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں مَیں نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کی بعض سفارشات پرتنقید کی تھی۔ ہم نے میڈیا کورٹس کی تجویز کی بھی مخالفت کی تھی جن کے قیام کے لیے پاکستان میں کام ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چینلز زبردستی بند کیے جاتے ہیں تو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ جب کسی صحافی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ہم مذمت کرتے ہیں۔ ایسا صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایسے اقدامات کی ہم مخالف کرتے ہیں۔

اسٹیون بٹلر کی زبردستی ملک بدری
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:58 0:00

سٹیون بٹلر کا کہنا تھا کہ “یہ درست ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کے دور میں صحافیوں پر قدغنیں بڑھی ہیں۔ آزاد صحافت کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔"

اس کی مثال دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ "ہم نے دیکھا کہ پچھلی حکومتوں میں فوج اور سول حکومت ایک دوسرے سے متصادم تھے۔ اور اس بات نے صحافیوں کے لیے ایک ایسی فضا پیدا کر دی تھی کہ وہ سول حکومت پر زیادہ تنقید کر سکتے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں سول حکومت اور فوج کے مراسم بہت اچھے ہیں۔ لہذٰا اب پاکستان میں تنقیدی صحافت کی گنجائش بہت کم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فوج عوام میں بہت مقبول ہے اور طاقتور بھی لہذٰا وہ چاہتی ہے کہ اس کی مرضی چلے۔

سٹیون بٹلر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت اور اداروں کی مرضی کے خلاف چلنے پر اخبار اور ٹی وی چینلز کو بند کر کے انہیں مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ لہذٰا متعدد میڈیا مالکان وہ لائن عبور نہیں کرتے جو ان حلقوں کی جانب سے کھینچ دی جاتی ہے۔ ان کے بقول اس سینسر شپ کے پیچھے پاکستان کی فوج ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان جنرل آصف غفور نے چند ماہ قبل وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں اس تاثر کی سختی سے تردید کی تھی کہ فوج میڈیا یا صحافیوں پر کسی قسم کی قدغنیں لگا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG