رسائی کے لنکس

کنول کا چہرہ جل گیا، ارمان جھلس گئے، زندگی منہ موڑ گئی۔ آنسو زندگی کے ورق کو پہلے ہی کورہ کرگئے۔۔ پھر بھی ایک بہانہ تھا زندہ رہنے کا۔ وہی بہانہ۔۔جس کے سبب شوہر کو چھوڑا، نئی زندگی اور نئی محبت سے منہ موڑا۔ کیا تھا یہ بہانہ کہ جس کی وجہ سے پتھر کے جگر کے ساتھ وہ آج بھی حوصلہ مند ہیں؟

سدرہ کنول۔۔جتنا اچھا نام ہے، کبھی چہرہ بھی اتنا ہی اچھا ہوا کرتا تھا۔ زندگی سے بھرپور، خوشیوں سے مسکراتا۔ لیکن، پھر اچانک وہ ہوا جس کا کبھی انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

انہیں خوبصورتی کی سزا یوں دی گئی کہ چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ واقعہ لمحوں کا تھا۔ لیکن سزا عمر بھر کی ملی۔ تیزاب سے چہرہ جھلس گیا۔ ارمانوں کی دنیا لٹ گئی، زندگی تماشا بن گئی اور آئینہ سے خوف آنے لگا۔

سدرہ بدقسمتی سے پاکستان کی ان خواتین میں شامل ہیں جن کے چہرے رشتے سے انکار پر ہمیشہ کے لئے جھلسا دیئے جاتے ہیں۔ ایسے واقعات کی یہاں کوئی کمی نہیں۔

سدرہ نے حال ہی میں ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو کی جس میں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی ہر مصیبت کا کھل کر تذکرہ کیا۔ یہ رپورٹ ان کی اسی گفتگو سے اخذ کرکے بنائی گئی ہے۔

سدرہ کا اصل مجرم اس کا ایک پڑوسی ہے۔ دونوں کراچی کے رہائشی ہیں۔ سدرہ کی عمر صرف 22سال ہے۔ چھ سال پہلے یعنی صرف 16سال کی عمر میں اس کی شادی کردی گئی لیکن شوہر کمانے اور محنت کرنے کا عادی نہیں تھا پھر بھی سدرہ نے کئی سال اس کی رفاقت میں گزار دیئے۔

ایک بیٹے سعد کی پیدائش کے بعد کم آمدنی اور زیادہ اخراجات میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی اور دوری کا سبب بنیں لگے۔

سدرہ کے بقول، جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ بھی نوکری کرے گی، تاکہ بچے کے اخراجات آسانی سے پورے کرسکے۔ لیکن، شوہر کو یہ بھی منظور نہ تھا۔

تنگ آکر سدرہ نے شوہر کا گھر چھوڑ دیا اور ماں باپ کے گھر واپس آگئی۔ سدرہ کی تین چھوٹی بہنیں ہیں، والد حیات نہیں اور ماں کے پاس بھی اپنی بیٹیوں کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔

غربت اور یتیمی کی وجہ سے کسی بھی بہن نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔ تینوں بہنیں ایک فیکٹری میں معمولی ملازمت کرتی تھیں۔ سدرہ کو یہیں ملازمت مل گئی۔

وہ دو سال تک اس آس میں میاں کی راہ دیکھتی رہی کہ شاید وہ اسے منانے چلا آئے اور بہتر زندگی گزارنے لگے۔ لیکن، شوہر کو نہ آنا تھا۔ نہ وہ آیا اور سدرہ کو مجبوراً خلع لینا پڑی۔

سدرہ کی زندگی میں ہولناکی کا عنصر اس وقت آیا جب ان کے ایک پڑوسی نے ان میں دلچسپی لینا شروع کی۔ سدرہ کے بقول ’’فیکٹری میں ملازمت ملنے کے بعد میں کسی حد تک مطمئن تھی اور چاہتی تھی کہ سعد کو خوب پڑھاؤں لکھاؤں۔ بڑا آدمی بناؤں۔ لیکن۔ قسمت کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔‘‘

’’اکرم (سمجھنے کے لئے رکھا گیا ایک فرضی نام)، میرے پڑوس میں رہتا تھا۔ میرا ہم عمر تھا۔ اس کے دل میں اپنے لئے میں نرم گوشہ محسوس کرچکی تھی۔ لیکن، صرف اس خیال سے کہ کوئی کسی کی اولاد کو نہیں چاہتا ، اکرم بھی شاید سعد کو پسند نہ کرے اس لئے میں اکرم کو نظر انداز کرتی رہی، لیکن وہ مسلسل شادی کے لئے اصرار کرتا رہا۔‘‘

سدرہ نے مزید بتایا ’’ایک روز جب میں فیکٹری جانے کے لئے بس کا انتظار کر رہی تھی وہ میرے قریب آیا اور پھر وہی ضد کرنے لگا کہ میں اس سے شادی کروں گی یا نہیں۔ میرا جواب اب بھی وہی تھا جو میں پہلے کئی بار اسے دیتی آئی تھی کہ میں تم سے ہی نہیں، کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ، ’’میراجواب سن کر وہ بھڑک گیا۔ مجھے قطعی علم نہیں تھا کہ اس کے ہاتھ میں کس چیز کی بوتل ہے۔ میرے انکار پر اکرم نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور تیزی سے بوتل میرے چہرے پر انڈیل دی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ بوتل میں تیزاب تھا۔ میں درد سے چیخنے لگی، میرا چہرہ، آنکھیں، ناک، کان سب کچھ بری طرح جل رہا تھا۔ میں زار و قطار رور ہی تھی اور مدد کے لئے لوگوں کو پکار رہی تھی۔ کچھ نظر نہیں آرہا تھا نہ کچھ سمجھ پا رہی تھی۔‘‘

یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کہ پتہ ہی نہیں لگ سکا کہ اکرم کہاں گیا، کس نے میری مدد کی، کون اسپتال لایا۔ ہوش آیا تو پتہ چلا کہ زندگی کی جو سانسیں باقی ہیں وہ مجھے کلس کلس کر گزارنا ہوں گی ۔۔‘‘

​ ’’کراچی کے ہی سول اسپتال برنس وارڈ میں، میں ایک مہینے تک داخل رہی۔ مہینے بھر بعد پہلی سرجری ہوئی اور کچھ دن بعد گھر بھیج دی گئی۔ مجھےدیکھ کر میری بوڑھی ماں جیسے ہنسنا بھول گئیں، مسکرانا بھول گئیں۔ انہیں یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ اب مجھے ایسے ہی جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ زندگی کی کڑی سزا کاٹنا ہوگی۔ میں انہیں سمجھاتی بھی تو کس طرح۔ کہتی بھی تو کیا کہتی۔۔ زندگی کا ورق پہلے ہی میرے آنسوؤں سے کورہ ہوگیا تھا۔‘‘

سدرہ نے بتایا کہ ’’میں ایک سال تک جلے ہونٹوں، ناک میں لگی نلکی اور جھلسے ہوئے سیاہ چہرے کے ساتھ اپنی شناخت تلاش کرتی پھری۔ پھر مجھے کسی طرح ایک غیر سرکاری تنظیم ’اسمائیل اگین‘ کا پتہ چلا۔ اسمائیل اگین کی روح رواں ’مسرت باجی‘ ہیں جو مجھ جیسی دیگر لڑکیوں کا علاج کراتی ہیں۔ انہی کے طفیل تین سال کے دوران ڈاکٹر جاوید ارشد نے میرے چہرے کی تین دفعہ سرجری کی۔ ورنہ تین سال پہلے تو لوگ مجھے دیکھ کر ہی ڈر جاتے تھے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں سدرہ نے بتایا ’’اکرم پچھے دو سال سے جیل میں ہے۔ میں نے اسے بتا دیا ہے کہ انکار، میری مجبوری تھی۔ کوئی کسی کی اولاد کو مکمل پیار نہیں دے پاتا۔ میں نے اپنے بیٹے کے لئے میاں کو چھوڑ دیا تھا ۔۔۔کسی کے ساتھ بھی نئی زندگی گزارنے سے منہ موڑ لیا تھا۔۔ کچھ تو سوچ لیتے۔‘‘

سدرہ نے ارباب اختیار کو ایک پیغام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’خدارا تیزاب کی سرعام خرید و فروخت پر پابندی لگائیے ۔۔میرا چہرہ ہی نہیں۔۔۔میرا سب کچھ جھلس گیا۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ اب تیزاب کسی اور کو جلائے، پھر کسی اور کنول کی مجبوری اس کا سکھ چین چھین لے۔۔پلیز تیزاب کو ’شجر ممنوع‘ قرار دے دیجئے ۔۔پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔!!

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG