رسائی کے لنکس

logo-print

انٹارکٹکا: برف میں پھنسے بحری جہاز تک پہنچنے کی کوششیں تیز


آسٹریلیا اور روس کے حکام نے منگل کو بتایا موسم صاف ہوتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے برف توڑنے والی چین کی مشینری ’’اسنو ڈریگن‘‘ کو جائے وقوع پر پہنچایا جائے گا اور وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

انٹارکٹکا کے ایک دور افتادہ مقام میں برف میں پھنسے روسی تحقیقی بحری جہاز پر امدادی کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹروں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ قبل ازیں متعدد بار اس بحری جہاز تک کشتیوں کے ذریعے پہنچنے کی کوششیں نا کام ہو چکی ہیں۔

اس بحری جہاز پر سائنسدانوں، سیاحوں اور عملے کے ارکان سمیت 74 افراد سوار ہیں۔ یہ جہاز کرسمس کی شام قطب شمالی کے قریب برف میں پھنس گیا تھا۔

برف توڑنے کے لیے فرانس، چین اور آسٹریلیا سے آنے والی مشینری جہاز تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

آسٹریلیا اور روس کے حکام نے منگل کو بتایا موسم صاف ہوتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے برف توڑنے والی چین کی مشینری ’’اسنو ڈریگن‘‘ کو جائے وقوع پر پہنچایا جائے گا اور وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

بحری جہاز پر موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ سال نو کی تقریب کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ یہاں کئی ہفتوں کے لیے سامان رسد موجود ہے اور جہاز کے ڈوبنے کا بھی کوئی خدشہ نہیں۔

توقع ہے کہ 22 رکنی جہاز کے عملے میں سے بیشتر اس پر موجود رہیں گے اور قدرتی طور پر برف پگھلنے کا انتظار کریں گے۔

یہ روسی جہاز 28 نومبر کو نیوزی لینڈ سے روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد ایک صدی قبل انٹارکٹکا کا سفر کرنے والے آسٹریلوی محقق ڈگلس ماؤسن کے دریافت کیے گئے راستے پر دوبارہ سفر کرنا تھا۔
XS
SM
MD
LG