رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن کے عوامی فنکار


Street Artists DC
please wait
Embed

No media source currently available

0:00 0:00:54 0:00

مصروف علاقوں میں سٹریٹ آرٹسٹس کا نظر آنا معمول کی بات ہے۔

امریکا میں کچھ فن کار شام کو محفل موسیقی کے بجائے علی الصباح ٹرین اسٹیشن کے باہر موسیقی کی دھنیں بکھیرتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کے چوراہوں پر اکثر یہ نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

عام طور پر اسٹرگلنگ آرٹسٹ یعنی اپنا نام بنانے کی جدوجہد میں مصروف فنکار عوامی مقامات پر پرفارمنس دیتے ہیں۔ جنھیں فن کے نقادوں کی جانب سے پذیرائی یا کام نہیں ملتا، وہ جب سڑک پر آجاتے ہیں، تو اپنا ہیٹ اتار کے ساز بجاتے ہیں۔

انھیں توقع ہوتی ہے کہ آتے جاتے لوگ ان کی پرفارمنس سے خوش ہو کر ان کے ہیٹ میں چند ڈالر ڈال دیں گے۔ کبھی ان کی توقع پوری ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔

روئے ہل کوئی ناکام فنکار نہیں البتہ انھیں اسٹرگلنگ آرٹسٹ ضرور کہا جاسکتا ہے۔ وہ وائلن آرٹسٹ ہیں اور بڑی بڑی محفلوں میں پرفارم کرچکے ہیں۔ اسکالرشپ پر موسیقی کی تعلیم حاصل بھی کی اور پڑھایا بھی۔ وہ کبھی کبھی واشنگٹن کے مصروف ٹرین میٹرو اسٹیشن لاں فانٹ پلازا پر فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن انھیں خیرات نہیں، کام چاہیے۔

روئے ہل نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ پیسہ کمانا چاہتے ہیں اور کام کی تلاش میں ہیں، شادیوں اور عوامی اداروں کی تقریبات وغیرہ۔ آندرے نائیٹری میرا ساتھ دیتے ہیں۔ میں وائلن بجاتا ہوں اور یہ بیس۔

آپ کتنا پیسہ کمالیتے ہیں، اس کے جواب میں روئے کے ساتھی آندے نے مذاق کیا کہ آج ہم دونوں پچاس پچاس ہزار ڈالر کمائیں گے۔

روئے کے خواب اونچے ہیں لیکن صبح سویرے لوگوں کو دفتر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اس لیے موسیقی سننے کے لیے کوئی نہیں رکنا چاہتا۔ لیکن وائلن کی دھن دور تک لوگوں کا پیچھا کرتی ہے اور دن بھر ان کا موڈ اچھا رکھتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG