رسائی کے لنکس

logo-print

ذہنی دباؤ سے نوجوان خواتین میں بال جھڑنے کا مرض عام: رپورٹ


ایک حالیہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان خواتین میں شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے بال گرنے کا مرض بہت عام ہوتا جارہا ہے.

انسان کی ظاہری خوبصورتی کا بالوں کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ بالوں کا گرنا ویسے تو ایک طبعی عمل ہےمگر یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عام طور پر بالوں کے گرنےکوبڑھتی ہوئی عمرکا تقاضا قرار دیاجاتا ہے۔

لیکن قبل از وقت بالوں سے محرومی یا گھنے بالوں کا پتلا ہوجانا مرد اور خواتین دونوں کے لیے ان دنوں ایک پریشان کن مسئلہ ثابت ہورہا ہے۔

ایک حالیہ سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان خواتین میں شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے بال گرنے کا مرض بہت عام ہوتا جارہا ہے۔ خاص طور پر گھریلوکام کاج اور ملازمت کی ذمہ داریوں کے دباؤ کی وجہ سے خواتین کو 20 برس کی عمر میں بھی بالوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سروے میں شامل خواتین کی 33 فیصد تعداد نے شکایت کی کہ ان کے بال دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں جبکہ 75 فیصد خواتین نے بالوں کے گرنے کاسبب ذہنی تناؤ کو قرار دیا۔

علاوہ ازیں 30 برس کی ہر چھ میں سے ایک خاتون بال جھڑنے کے مسئلے سے دوچار تھی۔ اسی طرح آٹھ فیصد خواتین کو صرف 25 برس کی عمر میں بالوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ڈھائی فیصد خواتین ایسی بھی تھیں جو اپنی 20 ویں سالگرہ سے قبل ہی بال گرنے کی شکایت کرتی پائی گئیں۔

'لوریل پروفیشنل 'کے اس سروے میں شامل دو ہزار بالغان میں مردوں میں بال جھڑنے کی اوسط عمر 38سال بتائی گئی ہے ۔

لگ بھگ 66 فی صد برطانوی مرد بالوں کی کمی یا گنجے پن کا شکار نظر آئے جنھوں نے اس مسئلے کا الزام گھر اور دفتر میں کام کے دباؤ کو دیا۔ حیرت انگیز طور پر اچھی ماہانہ تنخواہ پانے والی خواتین اور مردوں میں یہ مرض زیادہ عام پایا گیا ۔

رپورٹ کے مطابق ہر 5 میں سے ایک مرد بالوں کا جھڑنا خاموشی سے قبول کر لیتاہے لیکن خواتین میں یہ تناسب 10 میں سے ایک کا ہے ۔

'لوریل' کے ترجمان ایڈم ریڈ کے مطابق تحقیق کے بعد یہ شک بجا محسوس ہوتا ہے کہ ذہنی تناؤ خواتین میں بالوں کے گرنے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ بالوں کے گرنے کے مسئلے کا احساس ہونے کے فوراً بعد ہی احتیاطی تدابیر کے طور پرہمیں اپنی طرز زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے تاکہ مثبت رویہ اور صحت مند خوراک کے ساتھ ذہنی تناؤ کو کم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر خواتین اس مسئلے کو اس وقت شدت سے محسوس کرتی ہیں جب انھیں اپنے ہیئر برش پر بالوں کے گچھے ٹوٹے ہوئے ملتے ہیں۔ لیکن 51 فیصد کے مطابق انھیں غسل کرتے ہوئے یا آئینے کے سامنے اس بات کا احساس ہوا۔

سروے میں شریک ہر 10 میں سے ایک خاتون ہیئر ڈریسر کی وجہ سے اس مسئلے سے آگاہ ہوئی جبکہ 20 میں سے ایک خاتون نے بتایا کہ انھیں خاوند کی طرف سے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کا کہا گیا ۔

سروے رپورٹ کے مطابق تین فیصد خواتین اس مسئلے کے حل لیے ہیئر کیئر مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں جب کہ 6 میں سے ایک خاتون کا جواب یہ تھا کہ وہ بالوں سے محرومی کے بجائے موٹا ہونا زیادہ پسند کرے گی ۔

سروے میں شریک دو تہائی مردوں نے بال جھڑنے کو موروثی قرار دیا۔ اسی طرح نصف خواتین کے مطابق ہارمونز کی تبدیلی اس کی ایک بڑی وجہ ہے اور 10 میں سے ایک خاتون کے نزدیک بال جھڑنے کا ایک بڑا سبب ڈائٹنگ تھا ۔

'میل آن لائن' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بال گرنا اب صرف بڑی عمر کے لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا شکار 16 سے 24 برس کے نوجوان بھی ہورہے ہیں جبکہ 25 سے 34 برس کے 47 فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے بال وقت سے پہلے جھڑ چکے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG