رسائی کے لنکس

logo-print

ایک لاکھ تیس ہزار کرد شام سے ترکی میں داخل


ترکی کے نائب وزیراعظم نومان کورتولموش نے پیر کو کہا کہ اُن کی حکومت کو لگتا ہے کہ مزید لوگ بھی ترکی میں داخل ہو سکتے ہیں اور وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ترکی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ شام کے 1,30,000 کرد گزشتہ ہفتے سے اب تک اس کی سرحد میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ شامی کرد ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بعد وہاں سے نکلے۔

اتنی بڑی تعداد میں شامی کردوں کے داخلے کے بعد ترکی نے اپنی سرحد عارضی طور پر بند کر دی ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نومان کورتولموش نے پیر کو کہا کہ اُن کی حکومت کو لگتا ہے کہ مزید لوگ بھی ترکی میں داخل ہو سکتے ہیں اور وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے باعث پہلے ہی وہاں سے 8,50,000 پناہ گزین ترکی میں مقیم ہیں جن میں سے تین لاکھ پناہ گزین اسی سال داخل ہوئے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق سرحدی گاؤں عین العرب (جسے کرد کوبانی بھی کہتے ہیں) اور اس کے گرد ونواح کے دیہاتوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے جن علاقوں پر قبضہ کیا وہاں شدت پسند ہر عمر کے لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے ترکی کے کردوں سے کہا ہے کہ وہ شامی سرحد کے قریب کرد علاقوں سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کرد لوگوں کی مدد کریں۔

اسلامک اسٹیٹ نے حالیہ مہینوں میں شام و عراق کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد ’خلافت‘ قائم کرنے کا اعلان کیا۔

کئی شامی کردوں نے کہا کہ انھیں بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے جس طرح کے حالات کا سامنا عراق میں ’یزیدی برادری‘ کو کرنا پڑا۔

اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے رواں سال کے اوائل میں یزیدی برادری کے لوگوں پر حملہ کیا جس سے وہاں کے ہزاروں افراد کو اپنے آبائی علاقے سنجر سے نقل مکانی کرنی پڑی۔

امریکہ نے عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی کاروائیوں کی اور وہ ان کو شام تک بڑھانے پر بھی غور کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG