رسائی کے لنکس

سانحہ 8 اگست: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع میں ہڑتال


ہڑتال کے باعث صوبائی دارالحکومت میں ٹر یفک معمول سے کم ہے جب کہ شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں، بازار، دُکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔

سانحہ آٹھ اگست کی پہلی برسی کے موقع پر منگل کو کو ئٹہ سمیت بلوچستان کے بعض دیگر اضلاع میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔

ہڑتال کی اپیل عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے کی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی یہ دن سر کاری سطح پر منانے اور تمام تعلیمی ادارے ایک دن کے لیے بند کر نے کا اعلان کیا ہے ۔

ہڑتال کے باعث صوبائی دارالحکومت میں ٹر یفک معمول سے کم ہے جب کہ شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں، بازار، دُکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔

گزشتہ سال 8 اگست کی صبح بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال کاسی کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ میں ان کے گھر کے نزدیک ٹارگٹ کرکے ہلاک کردیا تھا جس کے بعد جب وکلاکی بڑی تعداداُن کی میت گھر لے جانے کے لیے اسپتال پہنچی تو اسی اثنا میں ایک خودکش بمبار نے وہاں دھماکہ کردیا تھا۔

اسپتال میں ہونے والے اس خود کش حملے میں 70 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد وکلا اور بعض صحافی بھی شامل تھے۔

سانحہ 8 اگست کا ایک سال مکمل ہونے پر بلوچستان کی وکلا برادری نے منگل کو دوسرے روز بھی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔

وکلا کے یومِ سیاہ کے موقع پر وکیل بلو چستان ہائیکورٹ اور تمام ماتحت عدالتوں میں کسی مقدمے میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

وکلا کے بائیکاٹ کے باعث صوبے کے دوردراز علاقوں سے ہائیکورٹ اور دیگر عدالتو ں میں اپنے مقدمات کے لیے آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کر ناپڑا اور آئندہ پیشی کی نئی تاریخیں لے کر اُنھیں مایوس لوٹنا پڑا ۔

سانحے میں ہلاک ہونے والے وکلا کی پہلی برسی کے موقع چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بھی کو ئٹہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ منگل کو بلوچستان ہائیکورٹ میں وکلاکی ایک تقر یب سے خطاب کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG