رسائی کے لنکس

logo-print

حاملہ ماؤں کا بیڈ ریسٹ، فائدے سے زیادہ نقصان: مطالعہ


حمل کے دوران ماؤں کا زیادہ وقت آرام کرنا فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہےکہ حاملہ ماں کا بیڈ ریسٹ نہ صرف اس کی اپنی صحت کے لیے بلکہ اس کے آنے والے بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔

نئے مطالعے سے وابستہ امریکی ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ حمل کے دوران ماؤں کا زیادہ تروقت آرام کرنا فائدے سے کہیں زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور یہ ان میں شدید ڈپریشن، پٹھوں کی کمزوری، خون میں کلاٹ جمنے اور ذیا بیطس کے خطرہ کو بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بیڈ ریسٹ کے نتیجے میں پیدائش کے وقت نوزائیدہ بچے کا وزن بھی کم ہو سکتا ہے۔

'سوسائٹی آف میٹرنل فیٹل میڈیسن' کے تحت ہونے والی اس تحقیق کے مطابق امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک حاملہ ماں کو حمل میں پیچیدگی کے باعث بیڈ ریسٹ تجویز کیا جاتا ہے۔

لیکن ان دنوں ڈاکٹروں کی جانب سے زیادہ تر حاملہ خواتین کومعمول کی سرگرمیوں کو محدود نہ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

'ڈیلاوئیر میٹرنل اینڈ فیٹل میڈیسن' سے منسلک تحقیق کے شریک مصنف انتھونی کے بقول ان کے مطالعے کے نتیجے میں بیڈ ریسٹ سے بہتر نتائج حاصل ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے بلکہ زیادہ آرام کے ماں اور نوزائیدہ بچے کے لیے نقصان دہ ہونے کے بارے میں ثبوت حاصل ہوئے ہیں۔

عام طور پر بیڈ ریسٹ کا مشورہ ابتدائی لیبر سے لے کر حمل کی دیگر پیچیدگیوں کے خطرے کے باعث دیا جاتا ہے جبکہ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر اور اسقاط حمل کے خطرے سے دوچار خواتین کو بھی ڈاکٹرزیادہ تر بیڈ ریسٹ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہیں۔

لیکن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ آرام کی وجہ سے وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کے خطرے کو نہیں ٹالا جا سکتا۔

رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ جن ڈکٹروں کی جانب سے حاملہ ماؤں کو بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا تھا وہ خود بھی اس کا یقین نہیں تھا کہ بیڈ ریسٹ سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں اور یہ ماں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکے گا۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبل از وقت پیدائش زیادہ تر ایسی ماؤں میں عام تھی جنھیں خطرے کی وجہ سے اپنی معمول کی سرگرمیاں محدود کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تحقیق میں حمل کے دوران محدود سرگرمیوں کے حوالے سے حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق بہت کم اعدادوشمار حاصل ہو سکے ہیں۔

ڈاکٹر انتھونی مثال دیتے ہیں کہ عموماً آنے والے بچے کی نشوونما کو بہتر بنانے کے لیے نال میں خون کے بہاؤ میں اضافے کی کوشش کے طور پر حاملہ ماؤں کوبیڈ ریسٹ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لیکن تحقیق اس عمل کے فوائد ظاہر کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس ے برعکس ٹھیک اسی وقت بیڈ ریسٹ کرنے کے ممکنہ ضمنی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں کیونکہ محدود سرگرمیوں کی وجہ سے پٹھوں اور ہڈیوں کا کمزور ہوجانا ایک عام مرض ہے اور نتیجے کے طور پر حاملہ مائیں پٹھوں کے نقصان کا شکار ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیڈ ریسٹ کرنے کی وجہ سے حاملہ خواتین کےپیروں کی خون کی رگوں میں کلاٹ بننے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے جو کہ پھیپھڑوں تک منتقل ہو کر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ غیر فعالیت کی وجہ سے حاملہ ماں میں ذیا بیطس کا خطرہ بھی بڑھتا ہے غیر فعال رہنے پر مجبور کئے جانے کی وجہ سے حاملہ ماؤں میں ڈپریشن اور پریشانی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ رپورٹ رواں ہفتے برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' میں شائع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG