رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی خواتین کا ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خلاف احتجاج کا اعلان


سعودی خواتین کا ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خلاف احتجاج کا اعلان

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر عائد پابندی کے خلاف چند سعودی خواتین جمعہ کے روز گاڑیاں چلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہیں۔

کئی سعودی خواتین نے انٹرنیٹ پر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز کیا جانے والا احتجاج 1990ء کے بعد اس مسئلہ پر اب تک کا سب سے بڑا احتجاج ثابت ہوسکتا ہے جب حکام نے کئی خواتین مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔

چونکہ سعودی عرب میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد ہے لہذا دیگر ممالک کے ڈرائیونگ لائسنس کی حامل ان خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ انفرادی طور پر گاڑیاں چلا کرکے اپنا احتجاج ریکاڈ کرائیں۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح چند خواتین نے اپنی گاڑیاں ڈرائیو کرتے ہوئے دارالحکومت ریاض کی مختلف سڑکوں اور سپر مارکیٹ کے چکر لگائے جبکہ اس دوران ان کے شوہروں کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس تجربہ سے متعلق تاثرات بھی شائع کیے گئے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے اس احتجاج کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا۔ کئی خواتین حقوقِ نسواں کی کارکن منال الشریف کے تجربے سے خوفزدہ ہو کر احتجاج سے دور رہنے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہیں جنہیں گاڑی ڈرائیو کرنے اور اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کے جرم میں دو ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ کی ممانعت سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون موجود نہیں ہے بلکہ اسلام کے ایک نسبتاً سخت مسلک وہابی ازم سے تعلق رکھنے والے علماء نے فتوؤں کے ذریعے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ان علماء کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو قانونی طور پر ڈرائیونگ کی اجازت دے دی گئی تو وہ اپنے گھروں سے اکیلے باہر آنے میں آزاد ہوں گی اور اس طرح وہ اجنبی مردوں سے روابط قائم کرسکتی ہیں۔

خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کے باعث سعودی خاندانوں کو یا تو ڈرائیورز رکھنے پڑتے ہیں یا پھر کہیں آنے جانے کے لیے رشتہ دار مردوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG