رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈان: روٹی کی مہنگائی پر جاری مظاہروں میں 50 افراد ہلاک


سوڈان کے شہر خرطوم میں حکومت مخالف مظاہرہ۔ فروری 2019

سوڈان میں روٹی کی مہنگائی کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کی پکڑ دھکڑ میں اب تک 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

مظاہروں میں شریک ایک شخص محمد مصری اس وقت اپنے دائیں ہاتھ سے محروم ہو گیا جب اس نے آنسو گیس کا ایک گولا اٹھا لیا۔ لیکن اس زخم نے اسے مظاہرے جاری رکھنے سے نہیں روکا جس سے دوسرے بہت سے دوسرے مظاہرین کو اپنی مہم جاری رکھنے کی تحریک ملی۔

20 سالہ محمد مصری یونیورسٹی آف خرطوم میں معیشت سے متعلق سرکاری پالیسیوں کے خلاف دسمبر کے مظاہروں میں شامل ہوا تھا۔

جب بلوہ پولیس نے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی تو مصری نے اپنے پاس گرنے والے گیس کے ایک گولے کو اٹھایا۔ جو اس کے دائیں ہاتھ میں پھٹ گیا اور اسے شدید زخمی کر دیا۔

مصری نے بتایا کہ اسے یاد ہے ایک دم بہت شور کی آواز آئی، وہ ایک دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے اور جب وہ اسپتال پہنچا تو ڈاکٹر نے فوری طور پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

اپنے زخم سے صحت یابی کے دوران مصری نے فیس بک پر ایک پیغام پوسٹ کیا جس میں مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہار نہ مانیں اور مارچ جاری رکھیں۔ مظاہروں میں شامل ایک شخص غیدا ناصرنے کہا کہ مصری کے پیغام نے مظاہرے جاری رکھنے میں مدد کی۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے زخموں نے اس کے حوصلے کو متاثر نہیں کیا ۔ انہیں پہلے ہی وہ نقصان پہنچ چکا تھا جس کی تلافى نہیں ہو سکتی، ان کے پاس مظاہرے جاری رکھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

سر گرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ دسمبر میں جب سے مظاہرے شروع ہوئے ہیں، کم از کم 57 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں یونیورسٹی کے طالب علم شامل تھے۔

سوڈان کے سرکاری ترجمان ربی عبد الطی نے کہا کہ عہدے دار ان شکایات کی چھان بین کریں گے کہ سیکورٹی فورسز نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس دونوں اطراف کے لوگ زخمی ہوئے اور یہ کہ مظاہروں کی اجازت نہیں تھی اور مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دی تھیں۔ اور یہ کہ اب جب کہ زخمیوں سے پوچھ گچھ جاری ہے، نتائج آنے والے دنوں میں بتا دیے جائیں گے۔

یہ مظاہرے ملک میں روٹی کی قیمت میں اچانک تین گنا اضافے کے نتیجے میں شروع ہوئے جو اس ملک کے لیے ایک جھٹکا تھا جو پہلے ہی70 فیصد افراط زر اور تیل کی قلت کا شکار تھا۔

جلد ہی مظاہرے صدر عمر البشار کے استعفے کے مطالبوں کی شکل اختیار کر گئے جو 30 سال سے بر سر اقتدار ہیں۔

ایک طالب علم اکرم یعقوب نے کہا کہ اس وقت مظاہرے پڑھائی سے زیادہ اہم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ نوجوان ایک بہتر زندگی چاہتے ہیں، ان کے بہت سے مطالبے ہیں۔ طالب علموں کے طور پر وہ اپنی پڑھائی اور اپنا مستقبل التوا میں ڈال سکتے ہیں لیکن ملک کے مستقبل کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔

صحت یاب ہونے کے بعد مصری نے اپنے آبائی قصبے ابری میں ایک مظاہرہ ترتیب دیا جس میں اس کے سینکڑوں حامی شریک ہوئے انہوں نے مصری کو اٹھایا ہوا تھا اور وہ یہ نعرے لگا رہے تھے کہ مصری ہمارے ساتھ ہیں، ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔

مصری کا کہنا ہے کہ ایک ہاتھ سے محرومی اسے یا سوڈان میں سیاسی تبدیلی چاہنے والے کسی بھی شخص کو نہیں روک سکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG