رسائی کے لنکس

logo-print

خرطوم: فوج نے عمر البشیر کا تختہ الٹ دیا، مظاہرین کا سویلین حکومت کا مطالبہ


سوڈان کی مسلح افواج نے جمعرات کو صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ دیا ہے، جنھوں نے 30 برس سے ملک پر مطلق العنان حکمران کے طور پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ تاہم، ان کی اقتدار سے برطرفی کے بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہ فوج سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اقتدار سویلین کے حوالے کیا جائے۔

75 سالہ بشیر کی اقتدار سے علیحدگی سے قبل کئی ماہ سے لوگ ان کی حکمرانی کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں۔

سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے، وزیر دفاع محمد احمد ابن اوف نے دو برس تک فوجی حکمرانی کا اعلان کیا، جس کے بعد صدارتی انتخابات کرائیں جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ بشیر کو ’’ایک محفوظ مقام پر زیر حراست رکھا گیا ہے‘‘ اور اب ملٹری کونسل ملک کا نظام چلائے گی۔ اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت کی سربراہی کون کرے گا۔

ابن اوف نے ہنگامی حالت کے نفاذ، ملک بھر میں جنگ بندی اور آئین کی منسوخی کا اعلان کیا۔

سونے سے جڑی کرسی پر براجمان، اُنھوں نے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں تک سوڈان کی فضائی حدود بند، جب کہ تا حکم ثانی سرحدی گزرگاہیں بند رہیں گی۔

بشیر کے خلاف ہونے والے احتجاج کی سرپرستی ’سوڈانیز پروفیشنل ایسو سی ایشن‘ (ایس پی اے) کر رہی ہے، جس نے وزیر کے بیان کردہ عزائم کو مسترد کیا ہے۔

تنظیم نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وزارت دفاع کے باہر ہفتے کو شروع ہونے والا دھرنا جاری رکھا جائے۔

ایک عینی شاہد نے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد وسطی خرطوم کی گلیوں میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نظر آئے، بشیر کی متوقع علیحدگی پر شادمانی کا سماں فوج کی قیادت والے عبوری دور کے اعلان پر برہمی میں بدل گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG