رسائی کے لنکس

logo-print

نہر سوئز سے جہاز تو آزاد ہو گیا، میمز باقی رہ گئیں


نہر سوئز پر پھنسے جہاز کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 25، مارچ 2021

ریسکیو حکام نے پیر کے روز بالآخر نہر سوئز پر کئی روز سے پھنسے ہوئے دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز کو آزاد کروا لیا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے دنیا کا سب سے مصروف بحری راستہ کھل گیا ہے اور بحری ٹریفک شروع ہو گئی ہے۔

اس بحری جہاز کے نہر سوئز کو بند کرنے کی وجہ سے سمندری کاروبار کو روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 23 مارچ سے نہر سوئز کے ریتلے کنارے پر پھنسے ہوئے اس جہاز کو ٹگ بوٹس، یعنی وہ کشتیاں جو بڑے بحری جہاز کو کھینچنے کا کام کرتی ہیں، کی مدد سے نکالا گیا۔ اس سلسلے میں سمندر پر مدوجزر نے بھی کشتی کو نکالنے میں مدد کی۔

کشتی کے آزاد ہونے کے بعد ٹگ بوٹس سے خوشی کے ہارن بجائے گئے اور ایور گیون بحری جہاز کو اپنی رہنمائی میں نہر کے وسط میں قائم گریٹ بٹر لیک لے گئیں۔ گریٹ بٹر لیک نہر سوئز کے شمالی اور جنوبی کناروں کے وسط میں قائم ایک جھیل ہے جہاں ایورگرین میرین کارپوریشن کے مطابق، جو اس جہاز کو چلاتی ہے، اس جہاز کی انسپیکشن کی جائے گی۔

نہر سوئز پر آنے والے ریت کے شدید طوفان کی وجہ سے ساحل سے ٹکرانے والے جہازکے باعث نہر سوئز تقریباً ایک ہفتے سے بند تھی جس کی وجہ سے نہر کے دہانے پر بحری جہازوں کا شدید ٹریفک جام رہا اور اس رکاوٹ کی وجہ سے دنیا بھر کی تجارت کو روزانہ 9 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا۔

اس رکاوٹ نے دنیا بھر کے رسد کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا اور درجنوں جہازوں کو اپنا راستہ بدل کر براعظم افریقہ کے جنوب میں کیپ آف گڈ ہوپ کو پار کر کے یورپ جانا پڑا۔ راستہ بدلنے کی وجہ سے بحری جہازوں کے لیے 5 ہزار کلومیٹر کا راستہ بڑھ جاتا ہے جس پر لاکھوں ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔

نہر سوئز کو پار کرنے کے لیے اب تک 367 بحری جہاز قطار میں کھڑے ہیں جن میں کئی پر تیل لدا ہوا ہے۔

اس بحری راستے کے بند ہونے کی وجہ سے مصر کو ٹول ٹیکس کی مد میں ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

جہاں دنیا بھر میں اس جہاز کی وجہ سے رسد کا نظام متاثر ہوا وہیں دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر اس بارے میں طرح طرح کے چٹکلے چھوڑے گئے۔

جہاز کے پہلے دن دیوہیکل بحری جہاز کے سامنے ننھے سے بلڈوزر کی تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی اور صارفین اسے ننھی سی جان اور دیو ہیکل کام کے ساتھ تشبیہہ دیتے رہے۔

انسٹاگرام پر ایک پیج Booksididnt نے میم پوسٹ کی جس میں لکھا تھا کہ ایک طرف سو کمپنیاں جو دنیا بھر کی 71 فیصد زیریلی گیسیں پھیلانے کا باعث ہیں، دوسری طرف ہم ہیں جو آلودگی مٹانے کے لیے کاغذ کے اسٹرا استعمال کر رہے ہیں۔

ریڈ پین بلیک پین نام کے ایک صارف نے لکھا کہ ایک طرف وہ لکھنے کا کام ہے جو مجھے کرنا ہے، دوسری طرف اس کے لیے میرے ذہن میں تحریک ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG