رسائی کے لنکس

logo-print

’صوفی نائٹ‘ اور’ فلمی میلے‘ نے سندھ فیسٹیول لُوٹ لیا


اگرچہ فیسٹیول کے انتظام و انصرام میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن یہ سوچ کر وسیع النظری کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے کہ پہلا فیسٹیول نئے تجربات سکھا رہا ہے اور آئندہ سالوں میں ان خامیوں کو دور کر لیا جائے گا۔

پاکستان کی جدید تاریخ ’سندھ فیسٹیول‘ کی ہمیشہ احسان مند رہے گی کہ اس کی بدولت ملکی ثقافت کو جس انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر ہونے کا موقع ملا ، وہ بے نظیر ہے۔

دہشت گردی، فرقہ ورانہ تنازعات اور سیاسی رنجشوں نے سندھ کی نوجوان نسل کو پہلے کبھی بھی اپنے صوبے کے کلچرکو سمجھنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ غالباً یہی خیال سندھ فیسٹیول کے انعقاد کی سب سے مضبوط وجہ بنا۔

اگرچہ فیسٹیول کے انتظام و انصرام میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن یہ سوچ کر وسیع النظری کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے کہ پہلا فیسٹیول نئے تجربات سکھا رہا ہے اور آئندہ سالوں میں ان خامیوں کو دور کر لیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کہہ لیجئے یا سندھ حکومت، اس کی جانب سے فیسٹیول ‘منانے کا اعلان صرف چند دن پہلے ہی ہوا تھا۔ اگر مزید وقت مل جاتا تو یقیناً فیسٹیول میں مزید جان پڑسکتی تھی۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر برائے ثقافت شرمیلا فاروقی کا کہنا کہ، سندھ فیسٹیول میں تمام لوک گلوکاروں اور فنکاروں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا بھرپور موقع ملا ہے‘، بے جا نہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور جیتی جاگتی مثال جمعے کی رات پولو گراؤنڈ میں ہونے والی ’صوفی نائٹ‘، پیر سے شروع ہونے والا ’فلم فیسٹیول‘ اور رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی ’غزل نائٹ‘ کا انعقاد ہے۔

’ صوفی نائٹ‘ نے رنگ جما دیا
اس نائٹ کا انعقاد جمعہ کی رات عمل میں آیا۔ کراچی کے شہریوں کے لئے یہ رات جاتی ہوئی سردی کا آخری مگر زور دار جھٹکا ثابت ہوئی۔ موسم غیر معمولی طور پر بہت تھنڈا تھا لیکن نصف درجن سے زائد صوفی، پوپ اور راک سنگرز نے ایسا سماں باندھا کہ کسی کو بھی ٹھنڈ کا زیادہ احساس نہیں ہوا۔

سندھ کی صنم ماروی، چولستان کے موہن بھگت، صوفیانہ کلام گانے کے شوقین علی حیدر، کافی گانے میں کوئی مثال نہ رکھنے والے صوفی گائیک الن فقیر کے بیٹے فہیم الن اور دیگر گانے والوں سے محفل میں وہ رنگ جمایا کہ ہر شخص جھوم اٹھا۔ سارا پنڈال تمام رات تالیوں سے گونجتا رہا۔

’اِک تارے‘ کی دھن پر سچل سرمست کی محبت، امن اور بھائی چارے کی چاشنی میں ڈوبے پیغام کو عام کرتے چولستان کے موہن بھگت نے دلوں پر سحر طاری کردیا۔ اسی دوران علی حیدر نے ’لعل میری‘ کی تانیں اٹھائیں تو لوگ دھمال ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام نے اپنی خوبصورتی نے بھی انگنت دل لوٹ لئے۔

سندھ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول: نیا تجربہ، نیا انداز
سندھ فیسٹیول کے تحت ہی آج یعنی پیر 10فروری سے ’نیوپلیکس‘ میں فلم فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس فیسٹیول کی سرپرستی یورپ کا ایک نجی ادارہ آر ایف ایف کررہا ہے۔ یہ ادارہ پچھلے 21سال سے اپنے فرائض انجام دیتا آرہا ہے۔

گزشتہ سال اس ادارے نے دنیا کے 53ممالک میں 127فیچر فلمز اور 165 شارٹ فلمز نمائش کے لئے پیش کیں۔ ان فلموں کو دنیا کے 71ممالک سے پیش کی جانے والی 4 ہزار 3 سو فلموں سے منتخب کیا گیا تھا جو کسی کارنامے سے کم نہیں۔

سندھ فیسٹیول کے تحت کراچی کے نیوپلیکس سنیما میں پانچ دستاویزی فلمیں اور تین فکشن پر مشتمل فیچر فلمیں پیش کی جائیں گی۔ فلم فیسٹیول دو دن تک جاری رہے گا۔ اس فیسٹیول کا مقصد بھی سندھ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ ’سندھ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں کامیاب ہونے والی فلم کو لندن کے انٹرنیشنل فلمی میلے میں بھی نامزدگی کے لیے بھیجا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG