رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: گردیز میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ، 25 نمازی ہلاک


فائل

ادھر، ایک ٹوئیڑ بیان میں، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے خود کش حملے کی ’’شدید مذمت‘‘ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس اور ہمدردی کیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہےکہ ’’دکھ کی اِس گھڑی میں، پاکستان افغان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ ہے‘‘

رائفلوں سے مسلح دو خودکش حملہ آوروں نے جمعے کو مشرقی افغانستان کی ایک شیعہ مسجد میں داخل ہوکر گولیاں چلائیں جس کے دوران کم از کم 25 نمازی ہلاک جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

صوبائی پولیس سربراہ، راز محمد مندوزئی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ حملہ آور مشرقی صوبہٴ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں ایک مسجد کے اندر گھس آئے اور نمازیوں پر گولیاں برسائیں، جس کے بعد جسم سے بندھے بارود میں دھماکہ کرکے اپنے آپ کو اڑا لیا۔

صحت کے صوبائی سربراہ، ولایت خان احمدزئی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بیسیوں زخمی افراد کو شہر کے دو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

پکتیا میں ہونے والی اس خونریزی کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی، جس کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق، جنوبی ہیلمند میں افغان کمانڈوز نے طالبان کے زیر سایہ چلائے جانے والے قیدخانے پر چھاپہ مار کر 61 قیدی رہا کرا لیے۔

ایک علاقائی فوجی کمانڈر نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کجاکی‘ ضلعے میں رات کے دوران زیادہ تر شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ جنرل ولی محمد احمدزئی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بازیاب کرائے گئے افراد کئی ماہ سے طالبان کی تحویل میں تھے۔

جنرل نے بتایا کہ بازیابی کی اس کارروائی کے دوران، ناجائز حراستی مرکز کی نگہبانی کرنے والے کئی باغیوں کو ہلاک کیا گیا، جب کہ نامعلوم دیگر افراد کو تحویل میں لیا گیا۔

افغان خصوصی افواج کے ترجمان نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ طالبان کی قید سے آزاد کرائے گئے افراد میں چار فوجی اور 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایک طالبان ترجمان، قاری یوسف احمدی نے چھاپے کی تصدیق کی ہے، جہاں، بقول اُن کے، منشیات کے عادی سولین کو رکھا جاتا تھا، جن میں ڈاکہ زنی، اغوا، نشہ اور ’’غیر اخلاقی حرکات میں ملوث‘‘ افراد شامل تھے۔

جمعرات کو قیدخانے کی تنصیب کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں رات گئے اخباری نمائندوں کو بھیجے گئے ایک بیان میں، احمدی نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی افغان اور امریکی افواج نے مل کر کی تھی۔

افغان حکومت کا صرف ضلعی مرکز کے علاقے پر کنٹرول ہے، جب کہ ’کجاکی‘ کا باقی علاقہ طالبان کے زیر قبضہ ہے۔

اسلام نواز سرکشوں کا ہیلمند کے 14 اضلاع یا اُن میں سے زیادہ تر پر قبضہ ہے۔

رقبے کے لحاظ سے اس سب سے بڑے افغان صوبے کی سرحدیں ہمسایہ پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، جس خطے میں پوست کی کاشت کی جاتی ہے۔

امریکی تربیت یافتہ افغان کمانڈو فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران ہیلمند اور قریبی صوبہٴ ارزغان میں طالبان کے زیر کنٹرول متعدد حراستی مراکز پر چھاپے مار کر بیسیوں قیدیوں کو رہا کرا لیا ہے۔

پاکستان کی شدید مذمت

ادھر، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبہٴ پکتیا کے شہر گردیز میں جمعے کو مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کی ’’شدید مذمت‘‘ کرتے ہوئے، ہونے والے جانی نقصان پر ’’افسوس کا اظہار‘‘ کیا ہے۔

جمعے کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ایک ٹوئیڑ بیان میں متاثرہ خاندانوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان افغان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG