رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس: خودکش حملے میں استعمال ہونے والی ’ایک جیکٹ‘ برآمد


یہ جیکٹ اسی علاقے سے ملی جہاں سے مفرور ملزم صالح عبدالسلام کا موبائل فون ملا تھا مگر پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ جیکٹ اسی کی ہے۔

پیرس کے مضافات میں اس جگہ کے قریب ایک دھماکہ خیز جیکٹ برآمد ہوئی ہے جہاں سے ایک مشتبہ حملہ آور کا موبائل فون ملا تھا۔

یہ ان جیکٹوں سے ملتی جلتی ہے جو پیرس حملوں میں استعمال کی گئیں۔ تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آور نے اپنا مشن جیکٹ خراب ہونے یا خوف کے باعث نامکمل چھوڑ دیا۔

فرانس میں پولیس نے کہا ہے کہ ڈیٹونیٹر کے بغیر یہ جیکٹ دھماکوں کی جگہ سے بہت دور پیرس کے جنوب میں کوڑے کے ڈھیر سے ایک خاکروب کو ملی۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ جیکٹ میں پیچ اور ویسا یہ دھماکہ خیز مواد پایا گیا جیسا 13 نومبر کو پیرس میں ہونے والے دھماکوں میں استعمال کیا گیا تھا، جس میں 130 افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہو گئے تھے۔

یہ جیکٹ اسی علاقے سے ملی جہاں سے مفرور ملزم صالح عبدالسلام کا موبائل فون ملا تھا مگر پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ جیکٹ اسی کی ہے۔

صالح کا ایک بھائی براہیم بھی ان حملوں میں شریک تھا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ عبدالسلام حملوں کے بعد بیلجیئم کی طرف فرار ہو گیا تھا۔ راستے میں پولیس نے اسے روکا مگر پھر چھوڑ دیا۔

مفرور ملزم کی تلاش کے دوران کیے جانے والے سکیورٹی اقدامات کے باعث برسلز میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی الرٹ میں کسی بڑی پیش رفت کے بعد کی کمی کی جائے گی۔

یہ جیکٹ ایسے وقت برآمد ہوئی جب بیلجیئم کے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے ’’سنگین اور ناگزیر‘‘ خطرے کے باعث ملک میں ایک ہفتہ مزید سخت سکیورٹی قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

سکیورٹی اقدامات کے باعث پیر کو برسلز میں سب وے اور کئی سکول اور دکانیں بند رہیں۔ تاہم بیلجیئم کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بدھ کو سکول دوبارہ کھول دیے جائیں گے اور سب وے نظام بھی جزوی بحال کر دیا جائے گا۔

بیلجیئم کے حکام نے ممکنہ حملوں کے بارے میں ابھی اپنی تحقیقات کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں نہ ہی انہوں نے ان چار افراد کی معلومات فراہم کی ہیں جنہیں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

ان میں ایک مشتبہ شخص ان 21 میں شامل تھا جنہیں اتوار کی رات سے اب تک مختلف چھاپوں میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے 15 کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG