رسائی کے لنکس

سورج گرہن اور اس سے منسلک توہمات

دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔ یہ مناظر کراچی اور گوادر میں واضح دکھائی دیے جب کہ ملک کے دیگر شہروں سکھر، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور گلگت میں بھی سورج گرہن دکھائی دیا۔

سری لنکا اور متحدہ عرب امارات میں مکمل سورج گرہن دکھائی دیا۔ اس دوران متحدہ عرب امارات کے کئی شہروں میں دن میں تاریکی پھیل گئی۔

کراچی میں سورج کو گہن لگنے کا عمل صبح سات بج کر 34 منٹ پر شروع ہوا۔ آٹھ بج کر 45 منٹ پر یہ اپنے عروج پر تھا جو دس بج کر 20 منٹ پر ختم ہوا۔

کراچی میں سورج گرہن کے مناظر دیکھنے کے لیے جامعہ کراچی کے آبزرویٹری ڈپارٹمنٹ میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ طلبہ اور ماہرینِ فلکیات نے ٹیلی اسکوپ اور خصوصی عینکوں کی مدد سے یہ نظارہ دیکھا۔

'رنگ آف فائر‘: سال 2019 کا آخری سورج گرہن

سورج گرہن پاکستان اور بھارت سمیت مشرقی یورپ، شمال اور مغربی آسٹریلیا، مشرقی افریقہ اور بحر اوقیانوس کے مختلف حصوں میں کیا گیا۔ زیر نظر تصویر اسلام آباد کی ہے۔ چاند، سورج کو کم ہی مواقع پر پوری طرح ڈھک لیتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آگیا جس سے بننے والا ہالا انگوٹھی کی شکل اختیار کرگیا۔ اسی مناسبت سے اسے &#39;رنگ آف فائر&#39; کا نام دیا گیا ہے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
1/17 سورج گرہن پاکستان اور بھارت سمیت مشرقی یورپ، شمال اور مغربی آسٹریلیا، مشرقی افریقہ اور بحر اوقیانوس کے مختلف حصوں میں کیا گیا۔ زیر نظر تصویر اسلام آباد کی ہے۔ چاند، سورج کو کم ہی مواقع پر پوری طرح ڈھک لیتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آگیا جس سے بننے والا ہالا انگوٹھی کی شکل اختیار کرگیا۔ اسی مناسبت سے اسے 'رنگ آف فائر' کا نام دیا گیا ہے۔ 

 
سورج یا چاند گرہن کو قریب سے دیکھنے کا شوق دنیا کے ہر ملک میں سالوں پرانا ہے۔ اسی لیے لوگ ماہرین کے منع کرنے کے باوجود مختلف طریقوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ لوگ ایکسرے فلم کے ذریعے گرہن کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آنکھوں کی بینائی پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے۔ اسلام آباد کی ایک رہائشی خاتون ایکسرے فلم کے ذریعے سورج گرہن کو دیکھ رہی ہیں۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
2/17 سورج یا چاند گرہن کو قریب سے دیکھنے کا شوق دنیا کے ہر ملک میں سالوں پرانا ہے۔ اسی لیے لوگ ماہرین کے منع کرنے کے باوجود مختلف طریقوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ لوگ ایکسرے فلم کے ذریعے گرہن کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آنکھوں کی بینائی پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے۔ اسلام آباد کی ایک رہائشی خاتون ایکسرے فلم کے ذریعے سورج گرہن کو دیکھ رہی ہیں۔ 

 
بھارت میں سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لئے لوگوں نے مختلف میدانی علاقوں اور گھروں کی چھتوں کا رخ کیا۔ تصویر میں کولکتہ کے رہائشی کچھ بچے گرہن کا نظارہ کررہے ہیں۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
3/17 بھارت میں سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لئے لوگوں نے مختلف میدانی علاقوں اور گھروں کی چھتوں کا رخ کیا۔ تصویر میں کولکتہ کے رہائشی کچھ بچے گرہن کا نظارہ کررہے ہیں۔ 

 
جنوبی بھارت کی ریاست کیرالا میں دو بچوں نے سورج گرہن کا نظارہ اپنے موبائل کے ذریعے کیا۔&nbsp;<br />
<br />
<br />
4/17 جنوبی بھارت کی ریاست کیرالا میں دو بچوں نے سورج گرہن کا نظارہ اپنے موبائل کے ذریعے کیا۔ 


بھارتی ریاست کیرالا میں سورج گرہن کچھ اس انداز میں لگا کہ ابتدا میں سورج کا ایک حصہ چھپ گیا۔&nbsp;<br />
<br />
<br />
5/17 بھارتی ریاست کیرالا میں سورج گرہن کچھ اس انداز میں لگا کہ ابتدا میں سورج کا ایک حصہ چھپ گیا۔ 


گرہن کے دوران چاند، سورج اور زمین کے درمیان آگیا جس سے کچھ لمحوں کے لیے اندھیرا چھا گیا اور سورج آگ کے گولے یا رنگ آف فائر کی طرح نظر آرہا ہے۔<br />
&nbsp;
6/17 گرہن کے دوران چاند، سورج اور زمین کے درمیان آگیا جس سے کچھ لمحوں کے لیے اندھیرا چھا گیا اور سورج آگ کے گولے یا رنگ آف فائر کی طرح نظر آرہا ہے۔
 
یہ ہے &#39;رنگ آف فائر&#39; کا مکمل نظارہ&nbsp;&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
7/17 یہ ہے 'رنگ آف فائر' کا مکمل نظارہ  

 
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی میں بچے سورج گرہن کا نظارہ کرتے ہوئے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
8/17 متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی میں بچے سورج گرہن کا نظارہ کرتے ہوئے۔ 

 
متحدہ عرب امارات میں سورج کو گرہن لگا تو اس کا انداز کچھ اس طرح کا تھا<br />
<br />
&nbsp;
9/17 متحدہ عرب امارات میں سورج کو گرہن لگا تو اس کا انداز کچھ اس طرح کا تھا

 
ابوظہبی کی سرزمین سے سورج گرہن کا نظارہ&nbsp;<br />
&nbsp;
10/17 ابوظہبی کی سرزمین سے سورج گرہن کا نظارہ 
 
عرب امارات میں مکمل سورج گرہن کے وقت اتاری گئی ایک تصویر۔&nbsp;
11/17 عرب امارات میں مکمل سورج گرہن کے وقت اتاری گئی ایک تصویر۔ 
انڈونیشیا میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے سورج گرہن کے نظارے کیے۔ ایک بچی نے خصوصی طور پر تیار کئے گئے چشمے سے سورج کو گرہن لگتے دیکھا۔&nbsp;<br />
&nbsp;
12/17 انڈونیشیا میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے سورج گرہن کے نظارے کیے۔ ایک بچی نے خصوصی طور پر تیار کئے گئے چشمے سے سورج کو گرہن لگتے دیکھا۔ 
 
سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے انڈونیشیا میں ایک شخص خصوصی چشمے فروخت کررہا ہے۔&nbsp;<br />
<br />
&nbsp;
13/17 سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے انڈونیشیا میں ایک شخص خصوصی چشمے فروخت کررہا ہے۔ 

 
بینکاک میں ایک خاتون رنگ آف فائر دیکھ رہی ہیں۔&nbsp;<br />
<br />
14/17 بینکاک میں ایک خاتون رنگ آف فائر دیکھ رہی ہیں۔ 

بینکاک کے آسمان میں سورج گرہن کے وقت کا نظارہ کچھ اس طرح کا تھا<br />
<br />
&nbsp;
15/17 بینکاک کے آسمان میں سورج گرہن کے وقت کا نظارہ کچھ اس طرح کا تھا

 
ویتنام کے شہر ہنوئی میں ایک طیارہ سورج گرہن کے وقت فضا میں محو پرواز ہے۔&nbsp;<br />
&nbsp;
16/17 ویتنام کے شہر ہنوئی میں ایک طیارہ سورج گرہن کے وقت فضا میں محو پرواز ہے۔ 
 
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سورج گرہن کا نظارہ&nbsp;<br />
&nbsp;
17/17 بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سورج گرہن کا نظارہ 
 
Previous slide
Next slide

آج کا سورج گرہن جزوی تھا

اس موقع پر کراچی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایسٹرو فزکس (اسپا) کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج کا سورج گرہن جزوی تھا۔

انہوں نے کہا کہ سورج کی 80 فی صد روشنی کو چاند نے روکے رکھا جس کی وجہ سے سورج ہلال کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا مرحلہ ڈھائی گھنٹوں کے دورانیے پر محیط تھا۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق 14 دن بعد چاند گرہن ہو گا جب کہ 21 جون 2020 کو دوبارہ سورج گرہن دیکھنے کو ملے گا جو کراچی میں جزوی طور پر دکھائی دے گا لیکن سکھر میں واضح ہو گا اور فائر آف رنگز کی صورت میں دکھائی دے گا۔

'لوگوں کو امید تھی کہ اندھیرا ہو گا، کچھ نہ ہوا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:07 0:00

سورج گرہن کی اقسام

ماہرین کے مطابق سورج گرہن کی کئی اقسام ہوتی ہیں جس میں سے ایک مکمل سورج گرہن ہوتا ہے جس میں زمین، سورج اور چاند ایک لائن میں آ جاتے ہیں۔

بعض اوقات یہ جزوی ہوتا ہے جیسا کہ آج کراچی میں ہونے والا سورج گرہن جزوی تھا۔ وہ انولر (حلقہ نما گہن) تھا جس میں چاند سورج کے درمیان تو موجود تھا۔ لیکن اس نے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپا۔

ماہرین کے مطابق چاند کا سائز چوںکہ چھوٹا ہوتا ہے اور وہ زمین سے بہت فاصلے پر ہوتا ہے۔ آج زمین اور چاند کے فاصلے کی وجہ سے چاند حجم میں کم دکھائی دیا۔ ایسے میں چاند جب سورج کے سامنے آیا تو سورج کناروں سے ایک دائرے کی مانند دکھائی دینے لگا جو انولر (حلقہ نما گہن) کہلاتا ہے۔

مکمل سورج گرہن کب دیکھا گیا؟

گیارہ اگست 1999 کو مکمل سورج گرہن ہوا تھا جس کے دوران کراچی میں سہ پہر کے وقت مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ اس سے قبل 1995 میں بہاول پور کے قریب احمد پور شرقیہ میں مکمل سورج گرہن دیکھا گیا تھا۔

سورج گرہن سے منسوب توہمات

فلکیات کے ماہرین سورج گرہن کو مکمل طور پر سائنسی عمل قرار دیتے ہوئے اس سے منسوب کہانیوں اور توہمات پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن اس سارے مرحلے کے دوران عام آنکھ سے سورج کو دیکھنے سے ضرور منع کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

آج کا سورج گرہن دیکھنے کے لیے بھی ماہرین اور طلبہ نے خصوصی آلات، ٹیلی اسکوپ اور عینکوں کا استعمال کیا۔

جامعہ کراچی کی ایک طالبہ حفصہ نے بتایا کہ انہیں بھی گھر سے اس حوالے سے خاص ہدایات کی گئی تھیں کہ وہ کھلی آنکھوں سے سورج نہ دیکھیں۔

لیکن بعض گھرانوں میں سورج گرہن کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس دوران حاملہ خواتین کو باہر جانے یا تیز دھار آلات سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔

کچھ لوگ اسے حاکموں اور حکومتوں کے لیے بد شگونی بھی تصور کرتے ہیں جب کہ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ زندگی پر برے اثرات ڈالنے کا ذریعہ ہے۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سورج گرہن کے دوران بچوں کو گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے اس سے ان کی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔

لیکن فلکیاتی ماہرین ان سب توہمات کو غلط قرار دیتے ہیں۔

اسلام ان توہمات کے حوالے سے کیا کہتا ہے؟

اس حوالے سے جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی نے کہا کہ توہمات پر یقین کرتے ہوئے ان پر عمل کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اشارہ ہمیں اسلام میں کہیں ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان توہمات پر یقین کیا جائے تو ا ایمان سے محروم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعات ہماری زندگی پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتے۔ یہ سب اللہ کی رضا اور منشاء سے ہے۔

ڈاکٹر عارف کے بقول توہمات کا شریعت میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ ان پر دھیان دینا مشکرانہ عمل ہے۔ کیوں کہ قادرِ مطلق بہرحال اللہ کی ذات ہے۔

  • 16x9 Image

    سدرہ ڈار

    Sidra Dar is a multimedia journalist based in Karachi, Pakistan.

This item is part of
XS
SM
MD
LG