رسائی کے لنکس

عمران خان بتائیں لندن فلیٹ کی رقم کہاں سے آئی: عدالت


حنیف عباسی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگر ترین کے خلاف غیر قانونی اثاثوں اور ٹیکس چوری کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان بنی گالہ کی زمین اور لندن میں خریدے گئے فلیٹ کے لیے ادا کی گئی رقوم کی ’منی ٹریل‘ کو ’’ٹکڑوں میں پیش کر رہے ہیں‘‘۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست کی جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران دیئے۔

حنیف عباسی نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ، عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگر ترین کے خلاف غیر قانونی اثاثوں اور ٹیکس چوری کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بیچ نے ایک بار پھر عمران خان سے کہا ہے کہ وہ ان رقوم کی تفصیل فراہم کریں جن کے ذریعے انہوں نے 1983 میں لندن میں فلیٹ خریدا تھا اور یہ بھی بتائیں کہ اس کے لیے رقم کس طرح ادا کی گئی۔ عدالت نے یہ تفصیل آئندہ ہفتے فراہم کرنے کا کہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے راہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان نے کرکٹ کھیل کر 1983-1984 میں حاصل ہونے والے پیسوں کی تفصیل عدالت میں پیش کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ جو سوال کیے اور جو الزامات عمران پر عائد ہوئے، ان کا جواب دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت اب 25 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG