رسائی کے لنکس

logo-print

بنی گالہ غیر قانونی تعمیرات کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت


پاکستان سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سروے جنرل آفس کے سربراہ جمیل اختر کو کل طلب کرلیا ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے خط تحریر کیا تھا جس پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا تھا۔

عمران خان نے اپنے خط میں کہا تھا کہ بنی گالہ میں لینڈ مافیا سرگرم ہے جو غیر قانونی تعمیرات کررہی ہے جس کے خلاف سی ڈی اے سمیت کوئی بھی متعلقہ ادارہ کارروائی نہیں کررہا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سی ڈی اے سے معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ میں تجاوزات کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈپٹی سروے جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ برس 4 سو 5 کلومیٹر کور کرلیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اسسمنٹ 4 سو 5 کلومیٹر کی تھی جس کے لیے مزید ڈیڑھ ماہ کا وقت درکار ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ حد بندی بہت ضروری ہے جس کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت آخری ہوگا۔ تاہم اس کے بعد ایک دن کا بھی مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر اس حوالے سے ادائیگیوں کا مسئلہ تھا تو عدالت کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے سروے جنرل آفس کے سربراہ جمیل اختر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سمات کل تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

بنی گالا عمران خان اور عبدالقدیر خان جیسے نامور لوگوں کی رہائش گاہ بننے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد کے لیے مجوزہ نیشنل پارک کے لیے مختص کی جانے والی جگہ ہے۔

نیشنل پارک کی تجویز 1960 میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ تھی، جو یونانی آرکیٹیکچر کانسٹینٹ تینس اپوستولس ڈوکسڈز نے دی تھی۔ اس تجویز کے تحت آج جس جگہ بنی گالا واقع ہے، وہیں ایک بہت بڑا درختوں سے بھرا پارک بنایا جانا تھا۔

28- فروری کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عمران خان کے بنی گالہ میں قائم گھر کی تعمیرات کے معاملے پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس کے مطابق سابق سیکرٹری یونین کونسل (یو سی) نے بنی گالا گھر کے این او سی کو جعلی قرار دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG