رسائی کے لنکس

پاکستانی باپ کو بچے لتھوانیا کی ماں کے سپرد کرنے کا حکم


سپریم کورٹ ، فائل فوٹو

ماں لتھوانیا کی۔ باپ گوجرانوالہ کا ڈاکٹر۔ شادی یو اے ای میں۔ پھر دونوں میں علیحدگی، بچے باپ لے گیا۔

سپریم کورٹ نے بچیوں کو لتھوانیا کی خاتون کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق شوہر بچوں کے پاسپورٹ جبکہ غیر ملکی خاتون میمونہ بھی اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ سابق شوہر خاتون کا بچوں کے ساتھ رہنے کا بندوبست کریں گے اور سکول کے بعد بچوں کو والدہ کے پاس چھوڑیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے بچیوں کی حوالگی سے متعلق غیر ملکی خاتون کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران لتھوانیا کی خاتون اور بچیاں اپنے والد کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں۔ سپریم کورٹ نے بچیوں سے والدہ کی ملاقات کا حکم دیتے ہوئے چائے اور بسکٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے بچیوں سے استفسار کیا کہ بچو! کیا آپ کبھی اپنی والدہ سے ملے ہیں؟ اس پر بیٹی مریم نے جواب دیا کہ میں اس خاتون کو نہیں جانتی، بچی نے استدعا کی کہ ملاقات کے دوران بابا بھی موجود رہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے والد سے استفسار کیا کہ بچوں کی آپ نے دیکھ بھال کی ہے؟،آپ کیا کرتے ہیں۔ بچیوں کے والد نے بتایا کہ گوجرانوالہ کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے بچوں کے ذہن خراب کر دیئے ہیں۔ کیوں نہ آپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے؟

عدالت نے حکم دیا کہ سب سے پہلے بچیوں کو والدہ سے ملایا جائے۔ بچوں کو لے کر بھاگنے والے سے کوئی ہمددردی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ7 سال سے ماں بیٹیوں کو نہیں ملی۔ کیا والد کو نہیں چاہیئے تھاکہ ویڈیو کال ہی سے ملوا دیتے؟ کیا والدہ کے سینے میں دل نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بچیوں کی والدہ سے ملاقات کے وقت والد موجود نہیں ہوں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ دبئی عدالت کا فیصلہ سابق شوہر کے خلاف آیا ہے۔

عدالت نے ملاقات کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔ جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے بچیوں کو غیر ملکی خاتون کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی سابق شوہر کو بچوں کے پاسپورٹ اور خاتون میمونہ کو اپنا پاسپورٹ ایچ آر سیل میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ سابق شوہر خاتون کا بچوں کے ساتھ رہنے کا بندوبست کریں اور سکول کے بعد بچوں کو والدہ کے پاس چھوڑیں گے۔

لیتھوانیا کی خاتون نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ اس کا شوہر پانچ سال قبل تین بیٹیوں کے ساتھ پاکستان آیا تھا جس کی بعد وہ واپس لوٹا اور نہ ہی اسے بیٹیوں سے ملنے کی اجازت دیتا ہے۔

لتھوانیا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستانی شہری سے شادی کی جس میں سے تین بچیاں پیدا ہوئیں۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے جن میں بیرون ملک شادیاں کرنے والے افراد بچوں کو پاکستان لے آتے تھے۔ ،ان واقعات کی وجہ سے برطانیہ میں بالخصوص سخت قوانین بنائے جارہے ہیں اور زبردستی کی شادی سمیت والدین کے کسی بھی سخت اقدام پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG