رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت مکمل


فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان نااہلی کیس میں فیصلہ محفوظ نہیں کررہے، فیصلہ محفوظ کرلیا تو مزید معاونت نہیں لے سکیں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت مکمل کرلی ہے جب کہ جہانگیر خان ترین کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت بدھ سے شروع ہوگی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان نااہلی کیس میں فیصلہ محفوظ نہیں کررہے، آف شور کمپنی سے متعلق کئی چیزیں سمجھنا چاہتے ہیں، فیصلہ محفوظ کرلیا تو مزید معاونت نہیں لے سکیں گے۔ دوران سماعت پاناما کیس کا بھی تذکرہ سامنے آتا رہا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دو خطوط پر پتے مختلف ہیں۔ خطوط کے لیے شوکت خانم کینسر اسپتال کے لیٹرہیڈ استعمال ہوئے اور دونوں خطوط میں فیکس نمبربھی مختلف ہیں۔

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کی عدم حاضری پر وکیل فیصل چوہدری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اکرم شیخ کہہ رہے ہیں کہ دونوں خطوط مصدقہ نہیں ہیں اور انہوں نے دونوں خطوط کی ساکھ پرسوال اٹھائے ہیں۔

اکرم شیخ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دونوں دستاویزات ایسی نہیں کہ عدالت میں پیش کی جائیں۔ بنی گالہ اراضی کے نقشے کے لیے 79 ہزار پاؤنڈ ادا کیے گئے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم جمائما سے آئی یا عمران خان نے ادا کی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شیخ صاحب یہ آپ کا مقدمہ نہیں، آپ کامقدمہ ہے کہ آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے اپنی 1982ء سے 2002ء تک آمدن 21 ملین بتائی جب کہ بنی گالہ اراضی کی تعمیر پر 70 ملین کے اخراجات آئے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا جن نکات پر آپ دلائل دے چکے ہیں وہ کمزور ہیں؟ ہم سے اکاؤنٹنگ کا کام نہ کرائیں، آپ کے منہ سے قانون کی بات اچھی لگتی ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کے علاوہ کوئی دوسرااثاثہ سامنے نہیں آیا؟

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میرے اتنے وسائل نہیں کہ معلوم کرسکوں کہ کوئی دوسرا اثاثہ تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کمپنی 2015ء تک فعال رہی جب کہ عمران خان 2013ء کے الیکشن میں نیازی سروسز لمیٹڈ کمپنی کو ظاہر کرسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کمپنی کے اکاؤنٹ میں عمران خان کی کتاب اور کرکٹ آمدن بھی آتی رہی جب کہ عمران خان این ایس ایل کمپنی کے اکاونٹ میں رکھے پیسوں کواستعمال کرتے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ان حالات میں ہم کیا کرتے؟ کیا ہمارے پاس ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار ہے جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ نیازی سروسز کمپنی کے اکاونٹ میں موجود ایک لاکھ پاؤنڈ کس کے تھے؟ عمران خان نے این ایس ایل کے اثاثے 2002ء اور 1997ء کے کاغذات میں نہیں بتائے۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ پیسہ کہیں بھی رکھا جائے، کسی کا کیا جاتا ہے؟ جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ کسی کا کچھ نہیں جاتا، قانون کا بہت کچھ جاتا ہے۔ عدالت خود دیکھ لے کہ این ایس ایل کو ظاہر کیا گیا۔ تاہم میرامقدمہ اثاثے ظاہرنہ کرنے کا ہے۔ جمائما کو ایک لاکھ 80 ہزار ڈالرز قرض سے زیادہ ادا کیے۔ جتنا قرض تھا اتنا ہی ادا کرنا چاہیے تھا۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں پہنچنے کے بعد کہا کہ میری طبیعت کل سے ناساز ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اکرم شیخ نے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ جمائما خان کی طرف سے راشد خان کو رقم بھیجنے پرسوال نہیں اٹھائے جب کہ عمران خان کا قرض لینا الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان نے جمائما سے لیے قرض کوظاہر نہیں کیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ جائیداد ظاہر کرنے کے بعد قرض ظاہر کرنے سے فرق پڑتا ہے۔ عمران خان نے بنی گالہ اراضی ظاہر کردی، صرف چھ فیصد منی ٹریل نہیں ملی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کا موقف ابھی بھی وہی ہے، تبدیل نہیں ہوا۔ بظاہر کوئی بدنیتی، دھوکہ دہی نظر نہیں آتی۔ آپ نے عمران خان کے وہ کاغذات نامزدگی لگائے جو مردہ ہوگئے تھے۔

دورانِ سماعت پاناما کیس کا بھی کئی بار تذکرہ ہوا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پانامہ کیس میں ہر جج نے اپنی الگ رائے بھی دی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی رائے سے فیصلہ پڑھنا شروع کریں، عدالت کو فیصلے کے ساتھ ہر جج کی رائے بھی دیکھنا ہوگی۔ پاناما کیس باپ بیٹے کے درمیان نہیں تھا، پاناما کیس ایف زیڈ ای کے مالک اور بورڈ کے چیئرمین کے درمیان تھا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت نے تنخواہ نہ لینے والی اچھی نیت کو بھی پاناما کیس میں مسترد کردیا۔ ایف زیڈ ای فیملی کمپنی تھی، باہر کا کوئی بندہ اس میں شامل نہیں تھا۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان نااہلی کیس کی سماعت مکمل کرلی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلہ محفوظ نہیں کررہے۔ جہانگیر ترین کیس میں بھی آف شور کمپنی کا معاملہ ہے۔ آف شور کمپنی سے متعلق کئی چیزیں سمجھنا چاہتے ہیں۔ فیصلہ محفوظ کرلیا تو مزید معاونت نہیں لے سکیں گے۔ جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت بدھ کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG