رسائی کے لنکس

امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش


ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر ایڈ مارکی اور ایوان نمائندگان کے ارکان، جیرلڈ نیڈلر، ہینک جانسن اور مونڈیئر جونز نے ایک نیوز کانفرنس کے ذریعے اس مسودہ قانون کو متعارف کروایا۔ فوٹو اے پی

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے جمعرات کے روز ایک مسودہ قانون متعارف کروایا ہے، جس کے تحت امریکی سپریم کورٹ میں مزید چار ججوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ اگر یہ مسودہ قانون منظور ہو گیا، تو سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 13 ہو سکتی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے اراکین کانگریس کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی جا رہی ہیں۔

اس مسودہ قانون کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں متعارف کروانے کا اعلان جمعرات کے روز واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل کی سیڑھیوں پر ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر ایڈ مارکی اور ایوان نمائندگان کے ارکان، جیرلڈ نیڈلر، ہینک جانسن اور مونڈیئر جونز نے ایک نیوز کانفرنس کے ذریعے کیا۔

صدر جو بائیڈن نے گزشتہ جمعہ کو ایک دو جماعتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا کہ وہ امریکی سپریم کورٹ میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور و خوض کرے گا۔ ان تبدیلیوں میں ججوں کی خدمات کی مدت کا تعین کرنا بھی شامل ہے ۔ اس وقت امریکی سپریم کورٹ کا جج تاحیات اپنے عہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

کانگریس کی ڈیمو کریٹک سپیکر نینسی پلوسی نے ابھی اس مسودہ قانون کی حمایت نہیں کی، جبکہ بعض ڈیموکریٹ ارکان نے کہا ہے کہ وہ صدر بائیڈن کی جانب سے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی بل کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

ہاوس سپیکر نینسی پیلوسی
ہاوس سپیکر نینسی پیلوسی

سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مدتِ صدارت کے دوران امریکی سپریم کورٹ میں تین ججوں کی تعیناتی کی تھی، جس سے قدامت پسند نظریات کے حامل ججوں کو تین کے مقابلے میں چھ سے اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔

ریپبلکن پارٹی کے اراکین کانگریس سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس عمل کے لئے امریکی تاریخ میں "کورٹ پیکنگ" (Court Packing) کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، 1937 میں امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کے دور میں "کورٹ پیکنگ" کی اصطلاح متعارف ہوئی تھی۔ جس کا مقصد ایک اصلاحاتی مسودہ قانون کے ذریعے سپریم کورٹ میں نئے جج تعینات کرنا تھا یا اُن ججوں کا متبادل لایا جانا تھا، جو جلد ریٹائر نہیں ہونے والے تھے۔ اس سے اس وقت کی امریکی حکومت کے لئے ممکن ہو جاتا کہ کوئی بھی مسودہ قانون متعارف کروانے پر اسے غیر آئینی قرار دیے جانے کا خدشہ نہ رہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اور لبرل سوچ کے حامی کارکنوں کا خیال ہے کہ اسقاطِ حمل، شہری حقوق، گن کنٹرول اور ہیلتھ کیئر تک رسائی سے متعلق بعض امریکی قوانین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے امریکی سپریم کورٹ میں آزاد سوچ کے حامل ججوں کی تعداد قدامت پسند ججوں کے تناسب سے ہونی چاہئے۔

امریکہ کی موجودہ سپریم کورٹ میں گزشتہ سال لبرل سوچ کی حامل خاتون جج روتھ بیدر گنزبرگ کے انتقال سے قدامت پسند سوچ کے حامل ججوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔

گنز برگ کے انتقال کے بعد ان کی خالی ہونے والی سپریم کورٹ کی نشست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خاتون جج کونی بیرٹ کو نامزد کیا تھا۔ اس تعیناتی کے بعدامریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی تعداد تین کے مقابلے میں چھ ہو گئی تھی۔

امریکہ کی سپریم کورٹ میں روایتی طور پر سال 1869 سے ججوں کی تعداد 9 رہی ہے، لیکن کانگریس کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اس تعداد کو تبدیل کر سکتی ہے ۔ جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی مدت ملازمت مقرر کرنے کیلئے بھی آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کے لئے حکم نامہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG