رسائی کے لنکس

logo-print

'امل چلی گئی لیکن باقی بچیاں تو بچ جائیں'


امل کی فائل تصویر جو ان کی والدہ بینش عمر نے ذرائع ابلاغ کو جاری کی ہے۔

عدالت نے واقعے کو پولیس کی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں اس اسپتال کی انتظامیہ کا رویہ بھی افسوس ناک تھا جہاں بچی کو طبی امداد کے لیے لے جایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں ایک پولیس مقابلے کے دوران معصوم بچی کی ہلاکت کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور متعلقہ قوانین میں اصلاحات تجویز کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

عدالت نے واقعے کو پولیس کی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں اس اسپتال کی انتظامیہ کا رویہ بھی افسوس ناک تھا جہاں بچی کو طبی امداد کے لیے لے جایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں کراچی کی دس سالہ بچی امل کی پولیس کی غفلت کے باعث ہلاکت پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت منگل کو ہوئی۔

امل گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے ڈیفنس کے نزدیک ایک ڈکیتی کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئی تھی۔

دورانِ سماعت امل کی والدہ نے عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، انہوں نے اسپتال کے مالک کے پیش نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ازخود نوٹس میں اسپتال کے مالک کو طلب کیا تھا۔

کمرۂ عدالت میں موجود اسپتال کے منتظم نے عدالت کو بتایا کہ بچی کو سر کے پچھلے حصے میں گولی لگی تھی جس کا دنیا میں کہیں بھی علاج ممکن نہیں۔ سر میں لگی ہوئی گولی چلتی رھتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ تو ایسا کرتے کہ والدین کو تسلی ہوتی کہ بچی کا بروقت علاج ہوا۔ کچھ چیزیں اللہ کے اختیار میں ہوتی ہیں۔ لیکن اسپتال کو بھی تو طبی امداد دینی چاہیے۔ آپ کے لیے اسپتال صرف کمانے کا ذریعہ ہے۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایمبولینس والوں کا تو ایک مافیا ہے جو پیسہ کماتے ہیں۔ نجی اسپتال والے بے حس ہو چکے ہیں۔ گولی لگے شخص کی زندگی کے لیے ایک ایک سیکنڈ اہم ہوتا ہے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نیشنل میڈیکل سینٹر اتنا بڑا اسپتال ہے اور افسوس کے ان کے پاس ایمبولینس نہیں۔

امل کی والدہ بینش عمر نے عدالت کو بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر بچی کو گولی لگنے کے بعد نیشنل میڈیکل سینٹر لے کر گئے تھے لیکن اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وقت نہیں ہے، آپ بچی کو کہیں اور لے جائیں۔ ڈاکٹرز نے مصنوعی تنفس کے لیے لگایا گیا پمپ بھی واپس لے لیا۔ ایمبولینس کا بندوبست بھی نہیں تھا۔ اسی دوران امل دم توڑ گئی۔

امل کی والدہ نے سوال کیا کہ کیا ہم کشمیر، افغانستان یا شام میں رہتے ہیں؟ آخر پولیس مقابلے میں مشین گن استعمال کیوں کی گئی؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے غلطی کی اور پھر اسپتال نے افسوس ناک رویے کا مظاہرہ کیا۔ کوئی ہرجانہ بچی کو واپس نہیں لا سکتا۔ نجی اسپتالوں کے لیے بھی کوئی ایس او پی ہونا چاہیے۔ ایک بچی چلی گئی لیکن باقی بچیاں تو بچ جائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے بھاری ہتھیار استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ بغیر تربیت دیے کہ گولی کب چلانی ہے، پولیس اہلکاروں کو مشین گن پکڑا دی جاتی ہے۔ پنجاب میں تو ریسکیو 1122 ہے، یہ سروس تمام صوبوں میں ہونی چاہیے۔

عدالت نے بچی کے والدین کے وکلا کو اٹارنی جنرل، سینئر وکلا اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ سے مشاورت کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے سے متعلق تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مقدمے کی مزید سماعت جمعے کو ہوگی۔

کمرۂ عدالت میں بچی کی والدہ نے معاملے کا از خود نوٹس لینے پر چیف جسٹس شکریہ ادا کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ بیٹا آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں۔ چھوٹی بیٹی کا بہت خیال رکھیں۔ وہ بڑی بہن کو مس کرتی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG