رسائی کے لنکس

راؤ انوار کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر ان کیمرا بریفنگ دینے کا حکم


سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ راؤ انوار کا ایک اور خط آیا ہے۔ خط میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹ بحال کردیں۔ پولیس کی رپورٹس تو مل رہی ہیں لیکن کیس میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔

کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں قبائلی نوجوان کے قتل میں ملوث مفرور پولیس افسر راؤ انور کی بیرونِ ملک فرار کی مبینہ کوشش کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق سپریم کورٹ نے ان کیمرا بریفنگ طلب کرلی ہے۔

عدالت کو راؤ انوار کا ایک اور خط مل گیا جب کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ کوئی نہ کوئی ملزمان کو شیلٹر فراہم کر رہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی بدھ کو سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ راؤ انوار کا ایک اور خط آیا ہے۔ معلوم نہیں خط اصلی ہے یا نقلی۔ خط کو فائل میں رکھوا دیا ہے۔ خط میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹ بحال کردیں۔ پولیس کی رپورٹس تو مل رہی ہیں لیکن کیس میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سکیورٹی اداروں کے مطابق تمام مشتبہ افراد کے موبائل نمبر بند کردیے ہیں۔ آئی ایس آئی سندھ پولیس کو تیکنیکی معاونت فراہم کررہی ہے۔ ملٹری انٹیلی جنس کے مطابق ان کے پاس ٹیکنیکل معاونت کے ذرائع محدود ہیں لیکن ایم آئی بھی پولیس سے تعاون کررہی ہے۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی آپ کی معاونت کر رہے ہیں؟ جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ دونوں سکیورٹی ادارے معاونت کررہے ہیں۔ اب تک 12 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ باقی ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں۔ پہلی ایف آئی آر منسوخ کردی ہے۔ مقدمے کا چالان داخل کردیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کے معاون وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ نقیب اللہ کیس میں 24 ملزمان ہیں لیکن ابھی تک 10 لوگ ہی گرفتار ہوئے ہیں۔ ریاست کی اتھارٹی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ظاہر ہے کوئی نہ کوئی تو ملزمان کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔ کیا شرپسند انھیں تحفظ فراہم کررہے ہیں؟

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار سیاسی پناہ میں نہیں ہے؟ جس پر اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ وہ سندھ میں نہیں ہیں۔ بطور ذمہ دار آفیسر ایسا نہیں کہہ سکتے کہ راؤ انوار سیاسی پناہ میں ہے۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی کراچی اور اسلام آباد میں ریکارڈ ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج پر عدالت کو ان کیمرا بریفنگ دینے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد مل جائے۔ ہم وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر جنرل ائیرپورٹس سکیورٹی کو بھی طلب کرلیا۔

نقیب اللہ قتل کیس کی آئندہ سماعت 16 مارچ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہو گی۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم نے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا تھا۔

سول سوسائٹی کے احتجاج اور سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں پولیس مقابلہ جعلی ثابت ہوگیا تھا۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس بھی لیا تھا جس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد ملک بھر میں محسود قبائل کی جانب سے مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG