رسائی کے لنکس

logo-print

توہینِ عدالت: دانیال کو شوکاز نوٹس جاری، طلال کو ایک ہفتے کی مہلت


فائل فوٹو

عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو استغاثہ مقرر کرتے ہوئے دانیال عزیز کے خلاف کیس کی سماعت جمعے تک جب کہ طلال چوہدری کے وکیل کو سات روز کا وقت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے وفاقی وزیرِ نجکاری دانیال عزیز کے وکیل کو توہینِ عدالت کے نوٹس کا جواب جمع کرانے کے لیے جمعے تک کی مہلت دیتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے جبکہ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے وکیل کو تیاری کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیدی ہے۔

دانیال عزیز کے خلاف توہینِ عدالت ازخود نوٹس کیس کی سماعت پیر کو جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت میں وفاقی وزیر دانیال عزیز اپنے وکیل علی رضا ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ مختلف ٹی وی چینلز پر دیے گئے بیانات کی روشنی میں دانیال عزیز بادی النظر میں توہینِ عدالت کے مرتکب قرار پائے ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو استغاثہ مقرر کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعے تک کے لیے ملتوی کردی۔

اس سے قبل عدالتِ عظمیٰ نے وزیرِ مملکت برائے اُمورِ داخلہ طلال چوہدری کو توہینِ عدالت کیس میں مزید ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ طلال چوہدری کو مہلت دی گئی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو طلال چوہدری کے خلاف توہینِ عدالت کے نوٹس کی سماعت کی۔

طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ان کے مؤکل کی پہلی وکیل عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہو چکا ہے جس کے بعد انہیں کیس کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ اسی بنیاد پر گزشتہ سماعت پر بھی التوا لیا گیا تھا۔

کامران مرتضیٰ نے کیس کی تیاری کے لیے دس روز کی مہلت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز میں پیش ہونا مشکل کام ہے۔ ابھی تک توہینِ عدالت کا نوٹس بھی موصول نہیں ہوا۔

اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر طلال چوہدری نے وقت مانگا تھا جو ہم نے دیا۔ آج آپ کو تیاری کر کے آنا چاہیے تھا۔ توہینِ عدالت کا نوٹس 7 فروری کو جاری کیا گیا تھا۔

عدالت نے طلال چوہدری کے وکیل کو سات روز کا وقت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

پہلی سماعت پر عدالت نے طلال چوہدری کو وکیل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی جب کہ گزشتہ سماعت پر بھی طلال چوہدری نے عاصمہ جہانگیر کی وفات کے باعث ایک ہفتے کا التوا مانگا تھا۔

طلال چوہدری کے کیس کی پیروی معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کر رہی تھیں جو گزشتہ ہفتے اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث چل بسی تھیں۔

سپریم کورٹ نے 2 فروری کو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کیس میں ایک ماہ قید اور پانچ سال کے لیے نااہل قرار دینے کی سزا سنانے کے بعد عدلیہ مخالف تقاریر پر از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور وفاقی وزیر دانیال عزیز کو نوٹس جاری کیے تھے۔

اسلام آباد اور لاہور کی ہائی کورٹس بھی حکمران جماعت کے سربراہ نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز اور پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناءاللہ کو عدلیہ مخالف بیانات پر توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کرچکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG