رسائی کے لنکس

پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ


(فائل فوٹو)

سماعت کے دوران تین رکنی بینچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی ’جلد نمبر 10‘ کھولنے کا فیصلہ بھی کیا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

عدالت کی طرف سے تاحال تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا گیا کہ کب یہ فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، لیکن حزب مخالف کی جماعتیں پر اُمید ہیں کہ اس معاملے کی اہمیت دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ سپریم کورٹ جلد اپنا فیصلہ سنا دے گی۔

مسلسل پانچ روز کی سماعت کے بعد دلائل مکمل

جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینج نے شریف خاندان کے اثاثوں سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ پر فریقین کے دلائل جمعے کو مسلسل پانچویں روز بھی سنے۔

بچوں کی غلطی کا اثر نواز شریف پر نہیں پڑتا: سلمان راجہ

جمعے کو جب سماعت شروع ہوئی تو وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کے موکلین نے کوئی غلط کام کیا بھی ہے تو اس کا اثر اُن کے والد یعنی نواز شریف پر نہیں پڑتا۔

وکیل سلمان اکرم راجہ
وکیل سلمان اکرم راجہ

دوسری جانب وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنے وکیل طارق حسن کے ذریعے ٹیکس ادائیگی سے متعلق اپنا 34 سالہ ریکارڈ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کر دیا۔

طارق حسن نے اپنے دلائل میں ’جے آئی ٹی‘ کی رپورٹ کو جانبدارانہ اور ’’بدنیتی‘‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت چاہے تو وہ اُن کے موکل کے ٹیکس ریکارڈ کا آڈٹ کسی بھی بین الاقوامی فرم سے کروا سکتی ہے۔

سماعت کے دوران تین رکنی بینچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی ’جلد نمبر 10‘ کھولنے کا فیصلہ بھی کیا۔

اس سے قبل ’جے آئی ٹی‘ کی درخواست پر اس جلد کو نہ کھولنے کا کہا گیا تھا، تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ مکمل رپورٹ جاری کی جانی چاہیے۔

فیصلہ زیادہ دیر محفوظ نہیں رہے گا: فواد چوہدری

تحریک انصاف کے وکیل فواد چوہدری نے کہا کہ اب عدالت نے حتمی فیصلہ سنانا ہے، لیکن اُن کے بقول جس طرح کے ملک کے اور معیشت کے حالات ہیں ’’میرے خیال میں فیصلہ زیادہ دیر محفوظ نہیں رہے گا۔‘‘

شیخ رشید
شیخ رشید

نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سنی جائے: شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے عدالت کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ کیس تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو چترال میں لواری ٹنل کے افتتاح کے موقع پر جو تقریر کی اُس پر اُن کے خلاف ’’توہین عدالت‘‘ سے متعلق درخواست سنی جائے۔

اُنھوں نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ وزیراعظم کا معاملہ الیکشن کمیشن کو نہ بھیجا جائے بلکہ خود سپریم کورٹ اس بارے میں فیصلہ کرے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ یہ احتساب نہیں استحصال ہو رہا ہے اور اُن کے بقول اسے کوئی نہیں مانے گا۔

لواری ٹنل کے افتتاح کے موقع پر نواز شریف اپنی جماعت دیگر راہنماؤں کے ہمراہ
لواری ٹنل کے افتتاح کے موقع پر نواز شریف اپنی جماعت دیگر راہنماؤں کے ہمراہ

تحریک انصاف کے مرکزی وکیل نعیم بخاری نے اپنے اختتامی دلائل میں ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کو نا اہل قرار دینے کی استدعا کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر قطری شہزادے کے خط کو الگ کر دیا جائے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ لندن فلیٹس شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔

نواز شریف قطری شہزادے کو نہیں لا سکے: سراج الحق

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بچے اپنے مرکزی گواہ قطری شہزادے کو بیان دلانے کے لیے نہیں لا سکے۔

مخالفین کو انصاف کی نہیں اقتدار کی طلب ہے: مصدق ملک

وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے جماعت نے اپنے تحفظات عدالت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

’’جے آئی ٹی کی رپورٹ تعصب زدہ تھی۔۔۔۔ ہمیں قوی اُمید ہے کہ انصاف ملے گا اور سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔‘‘

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کرنے والوں کو ’’انصاف کی نہیں اقتدار کی طلب ہے۔‘‘

پس منظر

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی
جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز کی مہلت دی گئی تھی اور ’جے آئی ٹی‘ نے اپنی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت عظمٰی میں پیش کر دی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق فریقین کے دلائل سننے کا سلسلہ 17 جولائی کو شروع کیا اور پانچ روز کی مسلسل سماعت کے بعد 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بچے پیش ہوئے جب کہ دیگر متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG