رسائی کے لنکس

logo-print

بے ایمانی کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے: چیف جسٹس


فائل فوٹو

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ قوم کے رہنماؤں کے متعلق بات ہو رہی ہے، تعزیراتِ پاکستان والے ملزمان کی نہیں۔ قوم کے رہنماؤں کے لیے معیار مقرر ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ بے ایمانی کا مطلب چیٹنگ اور فراڈ ہے جس کے مرتکب افراد پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے بدھ کو آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت کی۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی طرف سے سینئر وکیل اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے اور کیس کی تیاری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دینے کی درخواست کی جو عدالت عظمیٰ نے منظور کرلی۔

چودہ سابق ارکانِ اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے عدالتِ عظمیٰ میں درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں اور عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے۔

بینچ میں جسٹس عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔

درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ ارکانِ اسمبلی بھی شامل ہیں جنہیں جعلی تعلیمی ڈگریوں کی بنیاد پر عدالتوں نے نااہل قرار دیا تھا۔

بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ گزشتہ روز جاری کیا جانے والا پبلک نوٹس ان لوگوں کے لیے تھا جو متاثرہ ہیں۔ تمام متاثرہ لوگ اپنے لیے ایک مشترکہ وکیل کر لیں۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔

اللہ ڈنو نامی مدعی کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ ان کے مؤکل کو 2013ء میں 2008ء کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا۔ عدالت 62 ون ایف کے معاملے کو حل کرے۔ آرٹیکل 63 میں نااہلی کے ساتھ سزا کا تعین بھی ہے۔ زیادہ سے زیادہ نااہلی پانچ سال کی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر عدالت کسی شخص کو نااہل کر دے تو کیا وہ شخص تین ماہ بعد انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے؟

وکیل طارق محمود نے کہا کہ نااہلی پانچ سال کی ہونی چاہیے۔ پشاور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کو بد دیانتی پر تاحیات نااہل قرار دیا۔

عدالتی معاون منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنا سب کا بنیادی حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63 میں ماضی کے کنڈکٹ پر نااہلی تاحیات تھی۔ اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی بصیرت یہ تھی کہ تاحیات نااہلی کو مدت سے مشروط کردیا۔

جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بیشر مہمند نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب قانون اور عوامی نمائندگی ایکٹ میں بھی نااہلی تاحیات نہیں۔ تاحیات نااہلی کا لفظ پارلیمنٹ نے نہیں لکھا۔ نااہلی کی مدت نہ لکھے ہونے پر عدالت نے تاحیات قرار دیا۔ ریاست کے خلاف جرم کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کیا جاتا ہے، عدالت سے نہیں۔ ڈیکلریشن کا لفظ شامل کرتے ہوئے نااہلی کی مدت بھی لکھی جا سکتی تھی۔ عدالت میں بات قوم کی قیادت کی ہورہی ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ قوم کے رہنماؤں کے متعلق بات ہو رہی ہے، تعزیراتِ پاکستان والے ملزمان کی نہیں۔ قوم کے رہنماؤں کے لیے معیار مقرر ہونا چاہیے۔ کئی لوگوں کی گاڑیوں اور واشنگ مشینوں سے پیسے برآمد ہوئے۔ کیا ایسے کرپٹ لوگ پانچ سال بعد رکن، وزیر یا وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں؟ انتخابی فارم کے حلف کو عدالت بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔ غلط بیانی عوام کے ساتھ جھوٹ تصور ہوتی ہے۔ سزا بھگت کر واپس آنے والا اہل کیسے ہوسکتا ہے؟ اہلیت، نااہلیت اور سزا میں فرق کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا غداری کا ملزم بھی سزا کے بعد اہل ہو جائے گا؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کيا نااہل شخص ضمني يا آئندہ انتخابات لڑسکتا ہے؟ الیکشن سے تين ماہ پہلے بے ایمان قرار پا کر نااہل ہونے والا کیا آئندہ انتخابات لڑ سکے گا؟ فراڈ کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہوني چاہيے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایمانداری تو آرٹیکل 62 ون ایف کا صرف ایک حصہ ہے، دیگر الفاظ بھی دیکھنا ہوں گے۔

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG