رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس بند کرنے کی درخواست مسترد کر دی


فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی طرف سے اصغر خان کیس بند کرنے کی استدعا ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کیس بند کرنے کی استدعا کی تھی۔

ایف آئی اے نے کہا کہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس کسی بھی عدالت میں چلانا مشکل ہے۔ اس کیس میں بے نامی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات سمیت اہم گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ وزرات دفاع کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری بنائی گئی جس نے 6 گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے اور تمام شواہد کا جائزہ لیا۔ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مزید گواہوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی رپورٹ نامکمل ہے۔ رپورٹ میں گواہوں کے بیانات شامل نہیں ہیں اور صرف سمری شامل کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ایف آئی اے چاہے تو وہ گواہوں کے بیانات سربمہر لفافے میں پیش کر سکتی ہے اور اگر وہ بیانات عام کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو عدالت ایسا کر دے گی۔

ایف آئی اے کے مطابق انکوائری کمیٹی نے متعدد صحافیوں کے انٹرویو کیے جن میں مجیب الرحمان شامی اور حبیب اکرم شامل ہیں، جب کہ مرکزی گواہ بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اور ایڈووکیٹ یوسف میمن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ کیس کو آگے بڑھانے اور مزید ٹرائل کے لیے خاطر خواہ ثبوت نہیں مل سکے۔ لہذا مناسب ثبوت نہ ملنے کے باعث کیس کو کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں رہا۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے کو بریگیڈیئر(ر) حامد سعید کا بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے اور ایک ماہ میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے کیس بند کرنے کی سفارش پر بھی ایف آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، کیا حامد سعید سے پوچھا گیا کہ رقم کیسے ادا کی؟‘‘۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حامد سعید سے ادائیگی کا طریقہ کار نہیں پوچھا گیا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ، ’’ہر ملزم اپنے جرم سے انکار کرتا ہے۔ کیا جرم سے انکار پر کیس داخل دفتر ہو جاتا ہے؟ ایف آئی اے اس کیس میں پوری جان لڑائے۔‘‘

سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدر آمد کیس میں 1990 کے انتخابات میں دھاندلی اور سابق آرمی چیف اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی سمیت سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے ذمہ دار سابق فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس کیس میں تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کیس کے بارے میں اُنہیں وزارت دفاع کی طرف سے شواہد اور تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG