رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف کا شناختی کارڈ بحال کرنے، خصوصی ٹربیونل بنانے کا حکم


سابق صدر پرویز مشرف گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ (فائل فوٹو)

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دو روز کے اندر پرویز مشرف کے خلاف دائر آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ٹرائل کے لیے خصوصی ٹربیونل قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو لاہور رجسٹری میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اہلیت کے بارے میں درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دو روز کے اندر پرویز مشرف کے خلاف دائر آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کا معطل قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ان کی وطن واپسی میں حائل ہے۔

اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ "ہم نے مشرف کو واپسی کے لیے تحفظ دیا تھا۔ ایئرپورٹ سے عدالت تک مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے۔ شناختی کارڈ بلاک کرکے کیوں اس کی واپسی روکنے کا عذر پیدا کر رہے ہیں۔"

چیف جسٹس نے چیئرمین نادرا کو پرویز مشرف کا معطل شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف واپس آئیں اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوجائیں، انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا۔

سابق صدر کا شناختی کارڈ ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والی ایک ذیلی عدالت کے حکم پر بلاک کیا گیا تھا جس نے یہ حکم ان کی عدالت سے مسلسل غیر حاضری پر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG