رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: فاروق عبداللہ کی رہائی کی درخواست خارج


راجیہ سبھا کے رکن وائیکو نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ فاروق عبداللہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کی سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلٰی فاروق عبداللہ کی رہائی سے متعلق راجیہ سبھا کے رکن وائیکو کی دائر کردہ درخواست پر مزید سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تامل ناڈو کے رہنما وائیکو کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کا آغاز ہوا تو سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت زیر حراست ہیں۔

دورانِ سماعت وائیکو کے وکیل نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے طرز عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 16 ستمبر کو عدالت عظمیٰ میں طے شدہ سماعت سے چند منٹ پہلے فاروق عبداللہ کو جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو فاروق عبداللہ کی حراست کے خلاف متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

فاروق عبداللہ (فائل فوٹو)
فاروق عبداللہ (فائل فوٹو)

راجیہ سبھا کے رکن وائیکو کا سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف تھا کہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فاروق عبداللہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

بھارت کی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست پر اعتراض کیا تھا کہ درخواست گزار وائیکو، فاروق عبداللہ کے رشتے دار نہیں ہیں۔ فاروق عبداللہ کی رہائی کے لیے اُن کی درخواست قانونی عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو جموں و کشمیر کی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی جس کے بعد سے متعدد سیاسی رہنماؤں اور تاجروں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔

بھارتی اقدام کے ایک روز بعد جب 6 اگست کو 'نیشنل کانگریس پارٹی' کی رہنما سپریہ سلی نے فاروق عبداللہ کی پارلیمان میں عدم موجودگی کی نشاندہی کی تو وزیر داخلہ اور بی جے پی کے اہم رہنما امیت شاہ کا کہنا تھا کہ فاروق عبداللہ نہ زیر حراست ہیں اور نہ ہی اُنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ فاروق عبداللہ اپنی مرضی سے اپنے گھر میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1978 سے پی ایس اے کا قانون موجود ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔ اسی قانون کے تحت فاروق عبداللہ کو 16 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG