رسائی کے لنکس

پاناما کیس: سپریم کورٹ نے نظرِ ثانی کی تمام اپیلیں مسترد کردیں


فائل

عدالت نے نظرِ ثانی اپیلوں کی سماعت منگل کو شروع کی تھی اور چار سماعتوں کے بعد عدالت نے تمام اپیلیں خارج کردیں۔

سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی تمام درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی نااہلی اور ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیلیں سابق وزیرِاعظم نواز شریف، ان کے بچوں – حسن، حسین اور مریم نواز - داماد کیپٹن (ر) صفدر اور وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے دائر کی تھیں۔

اپیلوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا تھا جو جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔

عدالت نے نظرِ ثانی اپیلوں کی سماعت منگل کو شروع کی تھی اور چار سماعتوں کے بعد عدالت نے تمام اپیلیں خارج کردیں۔

جمعے کو سماعت مکمل ہونے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بینچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیصلے کی وجوہات بعد میں بیان کی جائیں گی۔

نظرِ ثانی اپیلوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث؛ حسن، حسین اور مریم نواز کی جانب سے سلمان اکرم راجا ایڈوکیٹ اور اسحاق ڈار کی جانب سے شاہد حامد ایڈوکیٹ نے عدالت کے روبرو دلائل دیے۔

اس سے قبل جمعے کو جب سماعت شروع ہوئی تو مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ ان کے کیس کے بیشتر گراؤنڈز خواجہ حارث کے دلائل سے مطابقت رکھتے ہیں اور وہ ایوون فیلڈ پراپرٹیز کے حوالے سے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ریفرنس پر دلائل دیں گے۔

انہوں نے کہا کیپٹن (ر) صفدر کا لندن فلیٹس سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے باوجود عدالت نے کیپٹن صفدرکے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ کیپٹن (ر) صفدر نے صرف بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کیے تھے۔

جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے مطابق مریم نواز آف شور کمپنی کی بینیفیشل مالک ہیں۔ مریم نواز نے پہلے لندن فلیٹس سے تعلق کا انکار کیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈز کے حکام نے مریم نواز کو مالک قرار دیا۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق نہیں۔

دریں اثنا پراسیکیوٹر جنرل نیب نے سپریم کورٹ کو حدیبیہ پیپرز ملز کیس سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سات روز کے اندر اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے جس پر عدالت نے شیخ رشید کی حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق درخواست نمٹادی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG