رسائی کے لنکس

اسحاق ڈار کے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف درخواست منظور


فائل فوٹو

عدالت نے درخواست گزار کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو نوٹس جاری کردیا اور انہیں آئندہ ہفتے خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے مفرور قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی بطور سینیٹر کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

عدالت نے اسحاق ڈار، الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سینئر وکیل بابر ستار کو عدالتی معاون مقرر کردیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار نوازش پیرزادہ نے نو مارچ کو اسحاق ڈار کی نااہلی سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جس میں انہوں نے سابق وزیرِ خزانہ کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے اپیلٹ الیکشن ٹربیونل نے 17 فروری کو سابق وزیرِ خزانہ کے خلاف ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی جس کے بعد 3 مارچ کو ہونے والے انتخاب میں اسحٰق ڈار سینیٹر منتخب ہوگئے تھے۔

پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی نوازش پیرزادہ کی درخواست کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت نوازش پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی مفرور خود کو قانون کے حوالے کرنے تک الیکشن نہیں لڑسکتا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کو مفرور ہوتے ہوئے بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ اسحاق ڈار قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں اور انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ نے متاثرہ فریق نہ ہونے پر آپ کی درخواست خارج کی۔ کس قانون کے تحت مفرور الیکشن نہیں لڑسکتا؟ آئینی نکتہ صرف مفرور کے الیکشن لڑنے کی اہلیت سے متعلق ہے۔

عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ اسحاق ڈار بیرونِ ملک تمام سہولتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ بیمار ہیں یا بیرونِ ملک سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم نے صرف یہ سمجھنا ہے کہ کیا مفرور شخص انتخاب لڑسکتا ہے یا نہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا یہ اعتراض ہے کہ انتخابی خرچ کے لیے مفرور شخص بینک اکاؤنٹس کیسے کھول سکتا ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ نیشنل بینک گلبرگ برانچ میں اسحاق ڈار کا بینک اکاؤنٹ کھولا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بینک اکاونٹس کھولنے سے متعلق اسٹیٹ بنک کا قانون اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟ کیا اسحاق ڈار نے کوئی وضاحت دی؟ مفرور شخص بینک اکاؤنٹ کیسے کھول سکتا ہے؟ ممکن ہے بینک اکاؤنٹ آن لائن کھولنے کا کوئی طریقہ ہو۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ظاہری موجودگی کے بغیر اکاؤنٹ کیسے کھل سکتا ہے؟ ہائی کورٹ نے بنک اکاؤنٹ والے معاملے پر فیصلہ نہیں دیا۔

عدالت نے درخواست گزار کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو نوٹس جاری کردیا اور انہیں آئندہ ہفتے خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے وکیل بابر ستار کو عدالتی معاون مقرر کردیا جبکہ ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی آئندہ سماعت 21 مارچ کو ہوگی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مفرور ہونے کے معاملے پر ہائی کورٹ نے واضح فیصلہ نہیں دیا۔ اپیل میں ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ اسحاق ڈار کے مفرور ہونے پر بھی اعتراض لگایا گیا۔ دو نشستوں پر ایک اکاؤنٹ ہونے کی وجہ سے کاغذات مسترد ہوئے۔ اسحاق ڈار نے ٹیکنو کریٹ اور جنرل نشست پر انتخاب لڑا۔

سابق وزیرخزانہ سحاق ڈارکو اسلام آباد کی احتساب عدالت ان کے خلاف دائر قومی احتساب بیورو کے ریفرنس میں پیش نہ ہونے پر مفرور قرار دے چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG