رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ نے ٹیکساس کے اسقاط حمل کے قانون کو منسوخ کر دیا


اکثریتی ججوں کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے، جسٹس اسٹیفن بائرز نے کہا کہ ریاستوں کے ضابطے طبی طور پر غیر ضروری اور آئینی طور پر خواتین کے اسقاط حمل کے حق کو محدود کرنے کے مترادف ہیں

امریکی عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز اسقاطِ حمل کا حق بحال رکھنے کا فیصلہ دیا، یہ حکم صادر کرتے ہوئے کہ ملک بھر کی عدالتوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ خواتین کے اِس آئینی حق کی نفی کریں؛ اور یہ کہ خواتین کو حق حاصل ہے کہ حمل سے متعلق خود فیصلہ کریں، اور یہ ''نامناسب اقدام ہوگا'' کہ اُن کی اسقاط حمل کی کلینک تک رسائی محدود کی جائے۔

اسقاط حمل کے معاملے پر شاید یہ چوتھائی صدی کا اہم ترین اقدام ہے، جسں میں عدالت نے3-5کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔

اکثریتی ججوں نے ملک کی جنوب مغربی ریاست، ٹیکساس کے قانون کو مسترد کیا، جیسا کہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسے ہی قوانین بنائے گئے ہیں، جن میں اسقاط حمل سے متعلق معالجوں کو اختیار تھا کہ وہ مریض کو اپنے کلینک کے قریب واقع اسپتال میں داخل کرنے کی اجازت دیں یا نا دیں؛ اور یہ کہ اُن کی کلنیکس کو اسپتال کی سطح کے مہنگے ترین صحت کی دیکھ بھال کے آلات سے لیس کیا جائے۔

اکثریتی ججوں کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے، جسٹس اسٹیفن بائرز نے کہا کہ ریاستوں کے ضابطے طبی طور پر غیر ضروری اور آئینی طور پر خواتین کے اسقاط حمل کے حق کو محدود کرنے کے مترادف ہیں۔

بائرز نے کہا کہ ریکارڈ واضح کرتا ہے کہ جب اسقاط حملہ میں پیچیدگی درپیش ہو، عملِ جراحی کے مرکز سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا؛ اور یہ کہ ریاست کے ضابطوں کے لحاظ سے اسقاط حمل کے کیلنکس کے بند ہونے کے اوقات کچھ خواتین کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوتے، اگر خواتین طبی عمل کی خواہاں بھی ہوں۔

ٹیکساس نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ اُن کا قانون اسقاط حمل کی خواہاں خواتین کی صحت کی حفاظت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ لیکن، اسقاط حمل کے وکلا کے مطابق یہ ضابطہ قدامت پسندوں کی جانب سے اسقاط حمل کو روکنے کے لیے گھڑا گیا ہے، جس ریاست میں ہر سال 70000 کے قریب اسقاط حمل کے کیسز واقع ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ موسم گرما کی تعطیل کے آغاز سے ایک ہی روز قبل سامنے آیا ہے، جس سے صرف ٹیکساس ہی میں ہزاروں خواتین کو فائدہ ہوگا، جب کہ امریکہ بھر میں متعدد خواتین اس سے استفادہ کر پائیں گی۔

اسقاط حمل کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاص طور پر ٹیکساس کی غریب اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو فائدہ ہوگا، جنھیں اب دیہاتی علاقوں میں موجود اسقاط حمل کے کیلنک تک رسائی ممکن ہوگی، چونکہ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے قانون کی پاسداری بہت ہی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ 2013ء کے اس قانون کے بعد ریاست کے تقریباً 40 میں سے نصف اسقاط حملے کے کلینک بند ہوچکے ہیں اور اگر اس قانون کو منسوخ نہیں کیا جاتا تو باقی ماندہ کیلنک بھی بند ہوجائیں گے؛ جس کے بعد اسقاط حمل کی خواہاں خواتین کو سینکڑوں میل سفر کرنا پڑے گا تاکہ بڑے شہروں میں کام کرنے والے باقی اسقاط حمل کے کلینک تک جاسکیں۔

یہ معاملہ ملک کی 2016ء صدارتی انتخابی مہم کا موضوع بن سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی متوقع صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن حمل ضائع کرنے کے خواتین کے حق کی حامی ہیں؛ جب کہ ری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ آپنے آپ کو 'پرو لائف' کہتے ہیں؛ اور ماسوائے زنا بالجبر کے معاملات کے باقی تمام قسم کے اسقاط حمل کے خلاف ہیں؛ یا پھر ایسے معاملے میں جب ماں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو، حالانکہ کئی برس قبل وہ اسقاط حمل کے حق کے حامی ہوا کرتے تھے۔

XS
SM
MD
LG