رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: پاکستان میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی


فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر 300 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جلسے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی ہے۔

پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چھ، سات روز کے دوران کرونا وائرس کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

اُن کے بقول اگر صورتِ حال یہی رہی تو پاکستان میں جون کے مہینے جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں جب اسپتالوں میں گنجائش کم پڑنے لگی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ شادی ہالوں میں اِن ڈور کیٹرنگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور کیٹرنگ میں 300 مہمانوں کی اجازت ہو گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ماسک ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ فی الحال ریستوران بند نہیں کر رہے لیکن اُنہیں سماجی فاصلے یقینی بنانا ہوں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کی بندش سے متعلق فیصلہ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔ اگر کیسز بڑھے تو اسکولوں میں سردیوں کی چھٹیاں بڑھا دیں گے جب کہ گرمیوں کی چھٹیاں صرف ایک ماہ کی ہوں گی۔

پاکستان: موسمِ سرما میں کرونا کی شدت بڑھنے کا خطرہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:49 0:00

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں دو ہفتوں کے دوران کرونا کے کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ کرونا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں اموات کی یومیہ تعداد 6،7 سے بڑھ کر 25 تک جا پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی (این سی او سی) کے آج ہونے والے اجلاس میں ملک میں کیسز کی بڑھتی ہوئی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔ اور یہ کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک ایران اور بھارت کے مقابلے میں کرونا کی پہلی لہر سے کافی حد تک محفوظ رہا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے بقول ایک جانب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہم اموات کی شرح کو محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے تھے، جب کہ اپنی معیشت کو بھی دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ تباہی سے بچا لیا تھا۔

انہوں نے اقرار کیا کہ ملک میں کرونا کی پہلی لہر میں بندشوں سے سروسز سیکٹر کو کافی نقصان پہنچا ہے جس میں سیاحت، شادی ہال، ہوٹل اور اسی سیکٹر میں آنے والے دیگر شعبے شامل ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا یہ تسلیم کر چکی ہے کہ ماسک کا استعمال کرونا سے بچاؤ کا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ لہذٰا عوام اس کا استعمال یقینی بنائیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات دنیا بھر میں منفی آئے ہیں۔ ہم نے اپنی معیشت کو بھی بچانا ہے، اس لیے ہم کوئی ایسی پابندی نہیں لگا رہے جس سے لوگوں کا روزگار متاثر ہو۔

کرونا وائرس نے اساتذہ پر بوجھ بڑھا دیا
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:06 0:00

پاکستان میں کرونا کی تازہ ترین صورتِ حال

پاکستان میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی شرح ساڑھے تین ماہ کی بلند ترین شرح یعنی 7.21 فی صد پر پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے 29 ہزار سے زائد ٹیسٹس میں سے مزید 2 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس طرح اب تک ملک میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد سات ہزار 160 تک جا پہنچی ہے۔ 12 نومبر کو ملک میں 37 افراد کرونا سے انتقال کر گئے تھے جو گزشتہ ساڑھے تین ماہ میں ایک ہی دن میں کرونا سے مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 55 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سمیت کئی وزرا اور اراکین اسمبلی بھی کرونا کے شکار ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG