رسائی کے لنکس

logo-print

مناسک حج کی ادائیگی کا آغاز، وقوف عرفہ جمعے کو ہوگا


اس سال، دنیا بھر کے 163 ممالک سے تعلق رکھنے والے 14 لاکھ عازمین حج سعودی عرب پہنچے ہیں۔ سب سے زیادہ عازمین کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ 68ہزار ہے جبکہ، پاکستانی عازمین کا نمبر دوسرا ہے

کراچی ۔۔۔ دنیا کے 163 ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں نے مناسک حج کی ادائیگی شروع کردی ہے۔ پہلے مرحلے میں جمعرات کو عازمین وادی منیٰ پہنچے، جہاں خیموں کا ایک شہر سا آباد ہے۔ یہاں دن بھر کے دوران آنے والی نمازیں اداکی گئیں۔

عازمین جمعہ کو میدان عرفات پہنچیں گے جہاں واقع مسجد نمرہ میں وہ خطبہ حج سنیں گے، حج کا رکن اعظم ’وقوف عرفہ‘ ادا ہوگا۔

جمعہ کی مناسبت سے ،عازمین حج اس سال ’حج اکبر‘ کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ عازمین جمعہ کو ہی مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کریں گے۔

مزدلفہ سے کنکریاں جمع کی جاتی ہیں جو اگلے روز یعنی 10ذو الحج کو منی میں قیام کے دوران قربانی سے پہلے شیطان کو ماری جاتی ہیں۔ اسی روز حجاج جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں موجود مقامی سینئر صحافی شاہد نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سال دنیا بھر کے 163 ممالک سے تعلق رکھنے والے 14 لاکھ عازمین حج سعودی عرب پہنچے ہیں۔

سب سے زیادہ عازمین کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔ اُن کی تعداد ایک لاکھ 68ہزار ہے، جبکہ پاکستانی عازمین کا نمبر دوسرا ہے۔ پاکستان سے مجموعی طور پر ایک لاکھ تنتالیس ہزار عازمین ادائیگی حج کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

مغربی افریقہ کے تین ممالک پر پابندی
اس بار مغربی افریقہ کے تین ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے وہاں کے شہری حج ادا نہیں کرسکیں گے۔ یہ پابندی گنی، لائبیریا اور سیرو لیون میں ابیولا پھیلنے کے سبب سعودی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی ہے، تاکہ دنیا کے باقی ممالک کے شہریوں کو اس سے محفوظ رکھا جاسکے۔

فرانسیسی اور امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق، مذکورہ ممالک میں ابیولا وائرس سے اب تک 3000 سے زائد اموات واقع ہوچکی ہیں، جبکہ اس بیماری سے متاثرہ افراد بھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ جو افراد حال ہی میں ان ممالک کا سفر کرچکے ہیں، ان پر بھی امسال حج ادا کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

بیماری سے بچنے کے لئے، احتیاطی تدابیر کے طور پر، عازمین کو منہ پر ’سرجیکل ماسک‘ پہننے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG