رسائی کے لنکس

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کی مقبولیت میں کمی


برطانیہ میں صدر ٹرمپ کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کی فائل فوٹو

سروے 37 ملکوں کے 40 ہزار سے زائد افراد کی آرا پر مشتمل ہے جس کے مطابق امریکہ کے بعض قریب ترین اتحادی ملکوں میں امریکہ کی مقبولیت میں باقی دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمی آئی ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی مقبولیت اور ساکھ میں نمایاں کمی آئی ہے اور دنیا کے بیشتر ملکوں کے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ صدر ٹرمپ قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہیں۔

امریکی ادارے 'پیو ریسرچ سینٹر' کے نئے سروے کے مطابق صدر اوباما کے آٹھ سالہ دورِ صدارت کے اختتام پر دنیا میں امریکہ کی مقبولیت 64 فی صد تھی جو اب گھٹ کر 49 فی صد رہ گئی ہے۔

سروے 37 ملکوں کے 40 ہزار سے زائد افراد کی آرا پر مشتمل ہے جس کے مطابق امریکہ کے بعض قریب ترین اتحادی ملکوں میں امریکہ کی مقبولیت میں باقی دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمی آئی ہے۔

سروے کے مطابق جن ملکوں میں امریکہ کے متعلق مثبت تاثر میں بہت زیادہ کمی آئی ہے ان میں امریکہ کے دونوں پڑوسی میکسیکو اور کینیڈا سرِ فہرست ہیں ۔

میکسیکو کے صرف 30 فی صد لوگ امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جب کہ براک اوباما کے دورِ صدارت کے اختتام پر یہ تعداد 66 فی صد تھی۔

کینیڈا اور جرمنی میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی تعداد میں 22 فی صد کمی آئی ہے اور اب ان ملکوں میں امریکہ کو اچھا سمجھنے والے افراد کی تعداد بالترتیب 43 فی صد اور 35 فی صد رہ گئی ہے۔

سروے کے مطابق امریکہ کی پسندیدگی میں آنے والی کمی دنیا کے تقریباً ہر براعظم اور خطے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

مذکورہ سروے 16 فروری سے 8 مئی کے دوران کیا گیا تھا جس کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی عدم مقبولیت اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر عدم اعتماد کی شرح امریکہ کی مقبولیت میں آنے والی کمی سے کہیں زیادہ ہے۔

سروے کے مطابق صرف 22 فی صد افراد نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ بین الاقوامی امور میں صحیح فیصلے کریں گے۔ اس کے برعکس گزشتہ برس صدر اوباما پر اظہارِ اعتماد کرنے والوں کی شرح 64 فی صد تھی۔

سروے میں مقبولیت کے اعتبار سے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور چین کے صدر ژی جن پنگ کا اسکور اپنے امریکی ہم منصب سے زیادہ رہا ہے جن کی قائدانہ صلاحیتوں پر بالترتیب 27 اور 28 فی صد افراد نے اعتماد کا اظہار کیا۔

سروے میں جن چار بین الاقوامی رہنماو ٔں کے متعلق سوال کیا گیا تھا ان میں جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل بھی شامل تھیں جو سروے کے مطابق باقی تینوں سربراہانِ مملکت سے زیادہ مقبول ہیں۔ مرخیل کی قائدانہ صلاحیتوں پر سروے میں شامل 42 فی صد افراد نے اعتماد کا اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ سب سے زیادہ میکسیکو اور اسپین میں غیر مقبول ہیں جہاں بالترتیب صرف پانچ اور سات فی صد لوگوں نے ان کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار کیا۔

سابق صدر براک اوباما کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کی ریٹنگ جن دو ملکوں میں بہتر ہوئی ہے ان میں روس اور اسرائیل شامل ہیں۔

سروے میں روس میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت 53 فی صد ریکارڈ کی گئی جو صدر اوباما کی صرف 11 فی صد تھی۔ اسرائیل میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت 56 فی صد ہے جہاں گزشتہ سال ان کے پیش رو کی مقبولیت محض سات فی صد تھی۔

بین الاقوامی سطح پر سروے میں شامل 75 فی صد افراد نے صدر ٹرمپ کو مغرور، 65 فی صد نے عدم برداشت کاحامل اور 62 فی صد نے خطرناک قرار دیا۔ تاہم پچپن فی صد افراد انہیں ایک مضبوط رہنما بھی سمجھتے ہیں۔

سروے میں لوگوں کی اکثریت نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بعض اہم پالیسی تجاویز اور اقدامات پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر 76 فی صد افراد میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کی تجویز کے مخالف ہیں۔ بہتر فی صد افراد امریکہ کی جانب سے اہم تجارتی معاہدوں سے علیحدگی کو ناپسند کرتے ہیں جب کہ 62 فی صد بعض مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی سے خوش نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG