رسائی کے لنکس

تربت سانحہ: 'بہتر مستقبل کا سوچا تھا، یہ نہیں جو ہوا'


حیدر علی اپنی والدہ کے ہمراہ (تصویر بشکریہ ایکسپریس)

اس جان کنی کے مرحلے سے گزرنے کے بعد اب حیدر علی کا کہنا ہے کہ وہ یہیں رہ کر محنت مزدوری کریں گے اور لوگوں کو بھی یہی مشورہ دیں گے کہ یہاں پوری کے بجائے آدھی روٹی کھا لیں کہ وہی بہتر ہے۔

حیدر علی ان متعدد نوجوانوں میں شامل تھے جو اپنے تئیں خوش حال مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند تھے لیکن اس کے لیے جو راہ انھوں نے چُنی وہ نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ اس میں جان سے جانے کا خطرہ بھی تھا۔

ان افراد کو انسانی اسمگلر غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپ بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے تربت میں یہ نوجوان مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور روشن مستقبل کا خواب ان کی آنکھوں میں ہی منجمد ہو گیا۔

سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے گاؤں جیتھیکے کے رہائشی 19 سالہ حیدر علی اس واقعے میں معجزانہ طور پر بچ گئے لیکن یہ واقعہ ان کے لیے ایک جیتا جاگتا ڈراؤنا خواب ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں حیدر علی نے بتایا کہ جو ہوا وہ انھوں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔

"گاؤں کے دو دوستوں نے بتایا کہ اس طرح باہر جا سکتے ہیں، تمہارا تو مکان بھی اپنا نہیں ہے۔ تو ہم نے سوچا چلتے ہیں اللہ بہتر کرے گا۔۔۔ مکان کا کرایہ دینا ہوتا ہے، کام کوئی نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں۔ انھیں اسکول پڑھانے ہیں فیسیں، کتابیں، خرچے بہت ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ میں باہر چلا جاؤں گا تو چلو میں تو نہیں پڑھ سکا، چھوٹے بہن بھائی تو پڑھ جائیں گے۔"

حیدر علی پانچ بھائی اور دو بہنوں کے کنبے میں اپنے والدین کے ہمراہ گاؤں میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ پیشکش اس لیے بھی پرکشش تھی کہ انھیں پیشگی کوئی رقم ادا نہیں کرنا پڑی۔

"انھوں نے بتایا کہ وہاں جا کر ہی پیسے دینے ہیں، ایک لاکھ 35 ہزار۔ ترکی لے کر جانا تھا اور وہاں محنت مزدوری کرنی تھی۔"

اس مہلک واقعے کو یاد کرتے ہوئے حیدر علی نے بتایا کہ یہ تمام افراد دو گاڑیوں میں سوار تھے اور ان سے آگے جانے والی گاڑی میں 15 لوگ سوار تھے جبکہ باقی ان کی گاڑی میں تھے۔

"ہماری گاڑی پیچھے تھی۔ اس (ڈرائیور) نے کھڑی کی کہ پتا نہیں کیا ہوا وہ چیک کرنے لگ گیا۔ اتنی دیر میں فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ ہم سب نے دوڑ لگا دی۔ کوئی سدھ بدھ نہیں۔ جس طرف کوئی راستہ ملا اسی طرف دوڑ لگا دی۔"

ان کے ساتھ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا نبیل نامی ایک اور نوجوان بھی زندہ بچ جانے میں کامیاب رہا۔ تربت کے اس علاقے سے وہ بھاگتے بھاگتے ایک چائے کے کھوکھے پر پہنچے جس کے مالک کو اپنی روداد سنائی تو اس شخص نے انھیں کوئٹہ تک جانے والی بس کے ٹکٹ لے کر دیے۔

حیدر علی سے جب پوچھا کہ ان کے وہ دو دوست جنہوں نے انھیں بیرون ملک جانے کی ترغیب دی تھی، اب کہاں ہیں؟ تو انھوں نے دلگیر لہجے میں بتایا کہ "ان کی باڈیاں (لاشیں) آ گئی ہیں گاؤں میں۔"

اس جان کنی کے مرحلے سے گزرنے کے بعد اب حیدر علی کا کہنا ہے کہ وہ یہیں رہ کر محنت مزدوری کریں گے اور لوگوں کو بھی یہی مشورہ دیں گے کہ یہاں پوری کے بجائے آدھی روٹی کھا لیں کہ وہی بہتر ہے۔

حکام نے حالیہ دنوں میں متعدد انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا ہے جن میں وہ لوگ بھی بتائے جاتے ہیں جو تربت میں مارے جانے نوجوانوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

لیکن حیدر علی کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ کون گرفتار ہوا اور کون نہیں کیونکہ ان کے بقول وہ کسی ایجنٹ سے براہ راست نہیں ملے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG