رسائی کے لنکس

logo-print

محمد عامر چکن پاکس میں مبتلا، ورلڈ کپ میں شرکت غیر یقینی


پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیفٹ آرم فاسٹ بالر محمد عامر کے مبینہ طور پر چکن پاکس میں مبتلا ہونے کی اطلاعات کے بعد ورلڈ کپ 2019ء میں ان کی شرکت کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔

محمد عامر انگلینڈ کے خلاف ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں نہیں کھیل سکے تھے۔ ٹیم آفیشلز کا کہنا تھا کہ وہ وائرل انفیکشن کا شکار تھے۔ لیکن وہ منگل کی شام برسٹل میں ہونے والے تیسرے ایک روزہ میچ میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اطلاعات کے مطابق محمد عامر ممکنہ طور پر چکن پاکس کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان دنوں ٹیم کے بجائے لندن میں مقیم اپنی فیملی کے ساتھ ہیں۔

کرک انفو ویب سائٹ کے مطابق محمد عامر کو صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگے گا یہ ابھی واضح نہیں لیکن اگر اُنہیں کم از کم ایک ہفتہ بھی لگا تو ان کے لیے ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ میں جگہ بنانے کا وقت گزر جائے گا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان منگل کو ہونے والے میچ کے بعد صرف دو ون ڈے رہ جائیں گے جو جمعے اور اتوار کو ہوں گے۔ لہذا اگر وہ جمعے تک صحت یاب نہ ہوئے تو پھر اُن کے لیے اسکواڈ میں جگہ بنانا بہت مشکل ہوگا۔

عامر ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ 15 رکنی ابتدائی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔ لیکن حتمی اسکواڈ کے لیے 23 مئی تک تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔

لیفٹ آرم فاسٹ بالر کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 17 رکنی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا تھا اور ورلڈ کپ اسکواڈ میں اُن کی شمولیت سیریز میں اُن کارکردگی سے مشروط تھی۔ لیکن وہ اب تک کوئی بھی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔

اگرچہ پہلے ون ڈے میں وہ ٹیم کا حصہ تھے لیکن یہ میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

محمد عامر کے ستارے گردش میں؟

عامر اب تک پاکستان ٹیم کے ایسے بالر ثابت ہوئے ہیں جن کے ستارے مسلسل گردش میں ہیں۔ کرکٹ کے حلقوں میں ان کا نام سب کو ازبر ہے لیکن اگر وہ عالمی کپ کرکٹ 2019ء کے اسکواڈ میں جگہ نہ بناسکے تو یہ مسلسل تیسرا ورلڈ کپ ہوگا جس میں کھیلنے سے وہ محروم رہ جائیں گے۔

عامر نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز 2009ء میں کیا تھا جس کے صرف ایک سال بعد یعنی 2010ء میں وہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں گھر گئے تھے اور ان پر پانچ سال کی پابندی لگا دی گئی تھی۔

پابندی کے باعث 2011ء اور 2015ء کے ورلڈ کپ ان کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ اب تیسری مرتبہ انہیں ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے تو بیماری نے انہیں آگھیرا ہے۔ کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ستاروں کی گردش ختم نہ ہوئی تو تیسرا عالمی کپ بھی عامر کی شرکت کے بغیر ہی گزر جائے گا۔

محمد عامر کی 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے اب تک وکٹ لینے کی صلاحیت کافی خراب رہی ہے۔ اس دوران 15 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں وہ صرف 5 وکٹیں لے سکے ہیں۔ لیکن اس دوران اُن کا اکانومی ریٹ 4 اعشاریہ 58 رہا ہے جو کافی بہتر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG