رسائی کے لنکس

مغربی بغداد میں داعش کےمبینہ حملے میں 11 افراد ہلاک


ایک عراقی فوجی ایک کتبے کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر داعش کا جھنڈا پینٹ کیا گیا ہے۔ فائل فوٹو
ایک عراقی فوجی ایک کتبے کے پاس سے گزر رہا ہے جس پر داعش کا جھنڈا پینٹ کیا گیا ہے۔ فائل فوٹو

مغربی بغداد میں قائم ایک چوکی پر اتوار کو ہوئے داعش کے ایک مبینہ حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

عراق کے سیکیورٹی عہدیداروں اور طبی عملے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس چوکی پر ریاستی سرپرستی میں قبائلی فورس کے افراد تعینات تھے۔

ادارے کی خبر میں کہا گیا ہے کہ داعش جنگجوؤں نے چوکی پر تعینات قبائلیوں پر دستی بم پھینکے اور پھر فائرنگ کی۔ یہ چوکی دارالحکومت بغداد کے جنوبی مضافاتی علاقے مییں بغداد ایئرپورٹ کے قریب ہے۔

ایک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش حملہ آوروں نے نگرانی کرنے والے مینارے پر حملہ کیا جس میں پانچ قبائلی ہلاک ہو گئے۔ جب ہلاک ہونے والے چھ مقامی افراد تھے جو حملہ پسپا کرنے کیلئے قبائلیوں کی مدد کو آئے تھے۔

طبی عملے نے اے ایف پی کو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ زخمیوں کو بغداد کے ایک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

داعش نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

داعش کا ایک کارکن رقہ میں داعش کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ فائل فوٹو
داعش کا ایک کارکن رقہ میں داعش کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ فائل فوٹو

داعش نے سن 2014 میں عراق کے ایک تہائی علاقے پر چڑھائی کرتے ہوئے ملک کے شمال اور مغرب میں بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا، اور وہ بغداد کے قریب پہنچ گئے تھے۔

امریکی قیادت میں اتحادی افواج کی مدد سے، عراق نے تین سال تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سن 2017 کے آخر میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اس برس، اتحادیوں نے اپنی افواج میں خاطر خواہ کمی کرتے ہوئے، باقی ماندہ فوج کو بغداد کی تین بڑی چھاؤنیوں تک محدود کر دیا تھا۔

داعش کے خوابیدہ گروپس نے سیکیورٹی فورسز، ریاست کے بنیادی ڈھانچے، خصوصی طور پر ریگستان میں، جہاں افواج کم تعداد میں تعینات تھیں، اپنی گوریلا کاروائیاں جاری رکھیں ہیں۔

تاہم اتوار کے روز دارالحکومت کے نزدیک ہونے والے حملے کی طرح کے واقعات بہرحال غیر معمولی ہیں۔

XS
SM
MD
LG