رسائی کے لنکس

logo-print

مشتبہ روسی ہیکر پر امریکہ میں فرد جرم عائد


پراگ میں روس کے سفارتخانے نے "ریڈیو فری یورپ" کو بتایا کہ ماسکو نیکولکن کی حوالگی کے لیے کوشش کرے گا۔

کمپیوٹر سے امریکیوں کی معلومات چرانے والے ایک روسی شہری پر کیلیفورنیا کی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کر دی ہے۔

29 سالہ ماسکو سے تعلق رکھنے والے یفگینی نیکولن کو پانچ اکتوبر کو جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد سے وہ وہیں زیر حراست ہے۔

اس پر کمپیوٹر پر بے جا مداخلت اور شناختی معلومات چرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

چیک حکام نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کو امریکہ کی درخواست پر انٹرپول کی طرف سے جاری وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اب اسے ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

نیکولن کی گرفتاری کی خبر منظر عام پر آنے کے چند گھنٹوں بعد انٹرنیٹ پر پیشہ ور افراد اور ماہرین سے رابطوں سے متعلق ویب سائٹ “LinkedIn” نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاملہ 2012ء میں اس کے صارفین کی معلومات پر ہونے والے حملے سے تعلق رکھتا ہے۔

مئی میں اس ویب سائٹ نے اعتراف کیا تھا کہ اس پر ہونے والے سائبر حملے میں دس کروڑ لوگوں کے پاس ورڈز چوری یا انھیں نقصان پہنچا تھا۔

تاحال نیکولن کو ملک بدر کرنے کی سماعت کی تاریخ تو مقرر نہیں کی گئی لیکن حکام کا کہنا تھا کہ یہ شخص فی الوقت حراست میں ہی رہے گا۔

پراگ میں روس کے سفارتخانے نے "ریڈیو فری یورپ" کو بتایا کہ ماسکو نیکولکن کی حوالگی کے لیے کوشش کرے گا۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زکارووا نے صحافیوں سے نیکولن کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے کہ وزارت خارجہ اور پراگ میں روسی سفارتخانہ جمہوریہ چیک کے عہدیداروں سے اس روسی شہری کی امریکہ کو حوالگی روکنے کے لیے قریبی رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیکولن کو تحویل میں لیے جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن عالمی سطح پر روسی شہریوں کے خلاف کارروائیاں بڑھا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG