رسائی کے لنکس

logo-print

منگل کو 12 ریاستوں میں صدارتی نامزدگی کے لیے انتخاب


ہلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اپنی جماعتوں کے صف اول کے امیدوار ہیں

منگل کو بارہ ریاستوں میں پرائمری یا کاکس انتخابات کرائے جائیں گے اور حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق ان میں سے اکثر ریاستوں میں صف اول کے رپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن کو واضح برتری حاصل ہے۔

آنے والے دنوں میں امریکی عوام کو اس بات کا واضح اندازہ ہو جائے گا کہ رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے کون سے امیدوار رپبلیکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

منگل کو بارہ ریاستوں میں پرائمری یا کاکس انتخابات ہوں گے اور حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق ان میں سے اکثر ریاستوں میں صف اول کے رپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار ہلری کلنٹن کو واضح برتری حاصل ہے۔

’’سپر ٹیوز ڈے‘‘ کہلانے والے اس مقابلے میں توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر ریاستوں میں انتخاب جیت کر رپبلیکن نامزدگی حاصل کرنے کے قریب پہنچ جائیں گے۔

اسی طرح ہلری کلنٹن ممکنہ ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر ابھر سکتی ہیں۔ ان کے حریف سینیٹر برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

سینڈرز نے کہا کہ ’’ملک کا متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے اور لگ بھگ ساری نئی آمدن اور مال و دولت امیر ترین دس فیصد کو گئی ہے۔‘‘

تاہم رپبلیکن جماعت کی نامزدگی حاصل کرنے والوں کی ڈوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف ان کا راستہ روکنے کی امید رکھتے ہیں۔ مارکو روبیو کو امید ہے کہ انہیں گزشتہ ہفتے مباحثے کے دوران اپنی بہتر کارکردگی کا فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی رپبلیکن پارٹی کے نامزد امیدوار نہیں ہوں گے۔ ہم کبھی بھی قدامت پسند تحریک اور رونلڈ ریگن کی پارٹی، ابراہم لنکن کی پارٹی کو ایک شعبدہ باز کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے مارکو روبیو کے بارے میں کہا کہ وہ کسی بھی ریاست میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور فلوریڈا میں بھی ناکام ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈیموکریٹک امیدواروں کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی کیرولائنا میں اپنی کامیبابی کے بعد ہلری کلنٹن نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام کی نفی کی۔

’’ہمیں امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ نے کبھی بھی اپنی عظمت نہیں کھوئی۔ مگر ہمیں امریکہ کو دوبارہ مکمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیواریں کھڑی کرنے کی بجائے رکاوٹیں گرانے کی ضرورت ہے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ تمام تر تنقید، تمسخر اور بدنامی کے باوجود شہ سرخیوں کا موضوع رہے ہیں اور امریکہ کے سیاسی میدان میں اہم کھلاڑی ہیں۔ اب تک انہوں نے اپنے متنازع بیانات سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ منگل کو ایک مرتبہ پھر اس بات کا امتحان ہو گا کہ وہ رپبلیکن ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام۔

XS
SM
MD
LG