رسائی کے لنکس

logo-print

سالگرہ:نظربندی ختم کرنے کا مطالبہ


برما کی حزبِ اختلاف کی رہنما، آن سان سوچی کےحمایتیوں نےدنیا بھرمیں اُن کی پینسٹھویں سالگرہ اِس مطالبے کے اعادے کے ساتھ منائی کہ اُنھیں گھر کی نظربندی سے رہا کیا جائے۔

ہفتے کے روز برما کے اہم شہر رنگون میں ایک گھر میں ہونے والی سالگرہ کی تقریب میں اُن کے400حمایتی جمع ہوئے ۔ علامتی طور پر اُنھوں نے پرندوں کو پنجروں سے آزاد کیا اورسالگرہ کا کیک کاٹا۔

موقعے کی مناسبت سے ،برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ہفتے کو عالمی لیڈروں بشمول امریکی صدر براک اوباما اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے، آن سان سوچی کو شخصی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اُن کے دفتر کی طرف سے ہفتےکو جاری ہونے والے ایک مراسلے میں مسٹر کیمرون نے فوجی حکومت کی طرف سے برما اور اُس کے عوام کے ساتھ، اُن کے الفاظ میں، روا رکھی جانے والی بے انصافی پر نکتہ چینی کی۔

اُنھوں نےآزادی اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری پر آن سان سوچی کو سراہا ، جِنھوں نے ذاتی تکالیف جھیل کر مضبوط مؤقف اپنائے رکھا ہے۔

جمعے کوامریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے برما کی فوجی حکومت سے نوبیل انعام یافتہ لیڈر کی رہائی کا مطالبہ کیا، جنھیں گذشتہ 20سال کے دوران تقریباً 15برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے۔

ہیگ نے کہا کہ سُوچی کےساتھ ساتھ تقریباٍ 2000دیگر سیاسی اسیروں کو قید میں رکھا جانا انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

آن سان سُوچی اِس وقت اپنی رہائش گاہ پرنظر بند ہیں۔ اُن کی جماعت، ‘نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی’ نے 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن فوجی لیڈروں نے اُنھیں اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا۔ ایک نئے انتخابی قانون کے ذریعے اُن پر اِس سال کے اواخر میں برما میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG