رسائی کے لنکس

logo-print

چترال کے بعد سوات میں بھی خودکشی کے رجحان میں اضافہ


پولیس کے مطابق سوات میں رواں سال خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں 52 مرد اور 169 خواتین شامل تھیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں گزشتہ نو ماہ کے دوران اقدامِ خودکشی کے 221 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے۔

ضلع پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2018ء کے ابتدائی نو ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے یہ واقعات گزشتہ سال کے کل واقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔ سال 2017ء کے 12 ماہ کے دوران ضلعے میں اقدامِ خود کشی 182 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق رواں سال خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں 52 مرد اور 169 خواتین شامل تھیں۔

سوات پولیس کے سربراہ سید اشفاق انور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ یہ اعداد و شمار اقدامِ خودکشی کے ہیں جن میں صرف ایک شخص کی جان گئی جب کہ 220 افراد کو بروقت بچا لیا گیا اور وہ سب زندہ سلامت ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ پولیس کی تفتیش کے مطابق خودکشی کی ان کوششوں کی وجوہات میں بے روزگاری، سماجی ماحول، ذہنی بیماری اور گھریلو تشدد جیسے عوامل شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا کہنا تھا کی پولیس کو خودکشی کی کسی کوشش کی جیسے ہی اطلاع ملتی ہے تو وہ موقع پر پہنچ کر ثبوت جمع کرتی ہے اور اگر ابتدائی مرحلے میں شک ہو کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے تو قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کی جاتی ہے۔

محکمۂ پولیس کو ضلعے میں خودکشی کے رجحان میں کمی کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم 'روزن' کا تعاون بھی حاصل ہے۔

روزن کے سینئر منیجر سید صفی پیرزادہ کہتے ہیں کہ سوات کے ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ضلعے میں روزانہ کی بنیاد پر خودکشی کی کوشش کا کوئی واقعہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں اور حکام کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔

صفی پیرزادہ کے بقول ریاستی اداروں سے انصاف نہ ملنے کے وجہ سے بھی لوگ مایوس ہو کر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس رجحان کی روک تھام کا کام خاندان سے شروع کرنا ہوگا اور والدین، خاندان کے بڑوں اور بچوں سب کو ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق بڑھانا ہوگا جب کہ ریاست کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔

سوات خیبر پختونخوا کا دوسرا ضلع ہے جہاں خودکشیوں کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سوات سے متصل ضلعے چترال میں بھی خودکشیوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے تھے جن کی تحقیقات کے لیے صوبائی حکومت نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

سوات کے برعکس چترال میں خودکشی کرنے والوں کی اکثریت نوجوان طلبہ و طالبات کی تھی جن میں سے کئی نے دریا میں کود کر اپنی جانیں لیں۔

اقدامِ خودکشی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 کے تحت جرم بھی ہے جس کے تحت اپنی جان لینے کی کوشش کرنے والے شخص کو ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG