رسائی کے لنکس

logo-print

چترال میں خود کشیوں کے واقعات جاری


پچھلے تین مہینوں کے دوران خود کشی کے 22 سے زیادہ واردات ہوچکے ہیں جن میں اکثر یت خواتین کی ہے جبکہ مردوں کی تعداد بہت کم ہے۔

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع چترال میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ تازہ ترین واقعہ میں ایک اور خاتون کے خودکشی کرنے کی اطلاعات ہیں ۔

ان واقعات میں اضافے کی وجوہات جاننے کرنے کے لئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔ تاہم ماہرین، علاقہ مکینوں اور مشاہدین کی نظر میں ان واقعات کی وجہ موسم کی تبدیلی ، گھریلوں تنازعات ،زبردستی کی شادیاں اور معاشی مسائل ہیں۔

خیبر پختونخوا میں دماغی امراض کے ڈاکٹر خالد مفتی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چترا ل میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی ایک وجہ چترالی عوام کا حد درجہ حساس ہونا بھی ہے،حتیٰ کہ ان کی حساسیت خود کشی پر ختم ہوتی ہے۔

ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ چترال کی وادی کیلاش میں خودکشی کا ابھی تک کوئی واقعہ رونما نہیں ہو احالانکہ کیلاش برادری میں موت پر خوشی منائی جاتی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک حیران کن بھی ہے۔

پشاور ہی میں رہائش پذیر چترالی برادری کے ایک رہنما صادق امین نے غربت ،بے روزگاری اور تعلیم یافتہ بچوں اور ان کے والدین کے ذہن اور خیالات میں دوری کو خودکشی کے بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ قراردیا۔

چترال ہی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی گل حماد فاروقی نے وی او اے کے نمائندے کو بتایا کہ چترال میں خودکشی کے واقعات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن سے متعلق تفصیلی جائزہ لینا بہت ضروری ہے ۔ پچھلے تین مہینوں کے دوران خود کشی کے 22 سے زیادہ واردات ہوچکے ہیں جن میں اکثر یت خواتین کی ہے جبکہ مردوں کی تعداد بہت کم ہے۔

ان کے بقول’ دو دن قبل بھی کڑی بالا کے دور افتادہ علاقے میں ایک خاتون نے خودکشی کی اطلاعات ہیں۔ خاتون کی شادی پنجاب میں ہوئی تھی تاہم گھریلو اختلافات کے باعث ان کی طلاق ہوئی وہ واپس میکے آگئی اور گھریلو تنازعات کے باعث اس نے اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔‘

خودکشی کرنے والوں میں طلباء اور طالبات بھی شامل ہیں جنہوں نے امتحانات میں زیادہ نمبر نہ لاسکنے کے سبب دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کی ۔

چترال کا شمار نہ صرف دور افتادہ پہاڑی اضلاع میں ہوتا ہے بلکہ پسماندگی میں بھی یہ سرفہرست ہیں۔ خراب موسم بالخصوص برف باری کے باعث اس علاقے کے زیادہ تر لوگ بے روز گارہوجاتے ہیں اور گھروں میں محصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ علاقے میں ذرائع روزگار نہ ہونے کے باعث لوگوں میں احساس محرومی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ایسے میں یہ لوگ خود ہی موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG