رسائی کے لنکس

logo-print

چترال میں خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ


خود کشی کرنے والوں میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ (فائل فوٹو)

چترال کے ایک سینئر صحافی گل حماد فاروقی کے مطابق صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران 20 افراد خودکشی کرچکے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع چترال میں حالیہ چند ماہ کے دوران خودکشی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور خودکشی کرنے والوں میں سے بیشتر خواتین اور نوجوان ہیں۔

علاقے میں خودکشی کے رجحان میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے طبی اور نفسیاتی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے اور خودکشی کے محرکات کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

صوبائی محکمۂ صحت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی چار ڈاکٹروں اور ذہنی امراض کے ماہرین پر مشتمل ہوگی۔

تاہم کمیٹی نے تاحال چترال کے دورے اور علاقے کے متاثرہ لوگوں اور عوامی نمائندوں سے معلومات کے لیے ملاقاتوں کا کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا ہے۔

چترال کی ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ضلعے کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 35 سے زائد افراد نے خودکشی کی ہے۔

چترال کے ایک سینئر صحافی گل حماد فاروقی کے مطابق صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران 20 افراد خودکشی کرچکے ہیں۔

مغفرت شاہ اور گل حماد فاروقی، دونوں نے تصدیق کی ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں اکثریت جواں سال لڑکیوں بالخصوص طالبات کی ہے۔

چترال کی وادیٔ کیلاش کے ایک گاؤں میں طالبات اسکول جا رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)
چترال کی وادیٔ کیلاش کے ایک گاؤں میں طالبات اسکول جا رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے گل حماد فاروقی نے بتایا کہ بظاہر امتحانات میں کم نمبر لینے والی طالبات دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرتی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ رواں سال اگست کے پہلے ہفتے میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا تھا جس کے بعد ایک ہفتے سے کم عرصے کے دوران چھ طالبات نے دریائے چترال میں کود کر خودکشی کی تھی جن میں سے ایک طالبہ کی لاش دو دن قبل ہی دریا سے برآمد ہوئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے کمیٹی کے تشکیل پر ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کی تشکیل سے کام نہیں چلے گا بلکہ چترال کے لوگوں میں بڑھتی ہوئی احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

چترال کا شمار نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ جنوبی ایشیا کے پسماندہ ترین اور دشوار گزار علاقوں میں ہوتا ہے۔

اس پہاڑی ضلعے میں ذرائع آمدن اور روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ چترال کے زیادہ تر لوگ روزگار کے حصول کے خاطر ملک کے دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود علاقے میں شرحِ تعلیم خاصی بلند ہے اور بعض ماہرین کے بقول دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ بہتر مستقبل کے مواقع نہ ہونے کے باعث بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG